ایگزیکٹو اسٹیبلشمنٹ نہ اس عدالت کو نہ ہی کسی عدالت کو نہیں مانتے ہیں ،بیرسٹر اعتزاز احسن
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ایگزیکٹو اسٹیبلشمنٹ نہ اس عدالت کو نہ ہی کسی عدالت کو نہیں مانتے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا: بلاول بھٹو کا فلسطین کے معاملے پر مؤقف
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے سماعت کی، بیرسٹر سلمان صفدر اور اعتزاز احسن عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: نجی ہاوسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے والی سڑک سے متعلق سوال پوچھنا میرا حق تھا،سینیٹر پلوشہ خان
وکالت نامے کا معاملہ
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ آج میرے سینئر وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن بھی میرے پاس موجود ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ میرے ساتھ اس کیس میں ایک عجیب واقعہ ہوا ہے، میں نے وکالت نامہ یہاں لاہور سے بھیج دیا تاکہ وہ عدالت جمع کرا دیں، گزشتہ روز میں کورٹ کے نوٹس میں لایا مجھے بانی کا دستخط شدہ وکالت نامہ چاہئے، گزشتہ روز جج صاحب نے ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ وکالت نامہ پر جیل سے دستخط کروا کے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: قطر نے عوامی تحفظ کے لیے کچھ علاقوں کو عارضی طور پر خالی کرانے کا اعلان کردیا
چیف جسٹس کی ہدایت
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ باقی لوگ بیٹھ جائیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ایگزیکٹو اسٹیبلشمنٹ نہ اس عدالت کو نہ ہی کسی عدالت کو نہیں مانتے، ہم کیس میں التوا نہیں مانگ رہے۔
وکالت نامے کی عدم دستیابی
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ کوئی بھی بندہ بھیجتے ہیں سپرنٹنڈنٹ جیل دستخط کروا کے دے دیتا ہے، سلمان صفدر نے کہا کہ چار ماہ سے ہمیں وکالت نامے دستخط کرا کے نہیں دے رہے۔








