مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی، خلیجی ممالک کس شدید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
خلیجی ممالک میں جنگ کی نئی شدت
کویت (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ممالک شدید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکھوں کی عالمی تنظیم نے بڑا قدم اٹھا لیا ۔۔۔کینیڈا میں ’’خالصتان ایمبیسی‘‘ قائم
جنگ کے مضمرات
تفصیلات کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتِ حال اب فضائی اڈوں اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ پانی کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ اگر سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے ڈی سیلینیشن پلانٹس پر حملے ہوتے ہیں، تو یہ خلیجی ممالک کے بڑے شہروں کو چند ہی دنوں میں پانی کے شدید بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی وجہ سے لاہور میں بسنت منائی جا رہی ہے اور بسنت کے دن آسمان بانی پی ٹی آئی کی پتنگوں سے بھر جائے گا، علیمہ خان
پانی کی اہمیت
’’جنگ‘‘ کے مطابق، خلیجی ممالک جیسے کویت اور سعودی عرب اپنی پینے کے پانی کی 90 فیصد تک فراہمی ڈی سیلینیشن کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑے کمپلیکس کو ایک کامیاب حملے میں شدید نقصان پہنچتا ہے، تو پوری شہروں کو خالی کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔ پانی کی معیشت کے ماہرین کے مطابق، جو بھی پانی کے نظام کو نشانہ بنائے گا، وہ ایسی پانی کی جنگ چھیڑ سکتا ہے جو موجودہ جنگ سے زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی سے متعلق آئی سی سی کے اجلاس میں پاکستان اپنے موقف پر ڈٹ گیا
خطے کی پانی کی حالت
خلیجی خطہ دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں قدرتی میٹھے پانی کے ذخائر بہت محدود ہیں۔ اس وجہ سے، یہاں کے ممالک اپنی زیادہ تر پینے کے پانی کی ضرورت سمندر کے پانی کو صاف کر کے پوری کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی کامیابی قیادت پر اعتماد کا ثبوت ہے: ماریہ طلال
ڈی سیلینیشن پلانٹس کا کردار
کویت تقریباً 90 فیصد، عمان تقریباً 86 فیصد، سعودی عرب تقریباً 70 فیصد، اور متحدہ عرب امارات تقریباً 42 فیصد پانی سمندری پانی کو میٹھا کر کے حاصل کرتے ہیں۔ پورے خلیج میں 400 سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس موجود ہیں اور یہ خطہ دنیا کا تقریباً 40 فیصد ڈی سیلینیٹڈ پانی پیدا کرتا ہے۔
شہروں کی بقاء
یہ پلانٹس بغیر دبئی، کویت سٹی، ریاض یا دوحہ جیسے بڑے شہر اپنی موجودہ آبادی کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔








