یومِ شہادت حضرت علیؓ : تمام جلوس و مجالس پرامن اختتام پذیر،کواڈ کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی
یومِ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ: سیکیورٹی انتظامات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق یومِ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ یومِ شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تمام جلوس و مجالس پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوئے۔ تمام عالم اسلام کی طرح پنجاب میں بھی یومِ شہادت حضرت علیؓ عقیدت و احترام سے منایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سفاری زو، انٹرچینج اور جیلوں کی ری ویمپنگ کے لئے اربوں کے فنڈز منظور
تحفظ کے لیے جامع گائیڈ لائنز
محکمہ داخلہ پنجاب نے سیکیورٹی کے حوالے سے جامع گائیڈ لائنز جاری کیں جن پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔ پنجاب بھر میں جلوسوں اور مجالس کی لائیو مانیٹرنگ کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا جس کو تمام ضلعی کنٹرول رومز سے منسلک کیا گیا تھا۔ چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق، کو چئیرمن بلال یاسین اور سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی یوم شہادت حضرت علیؓ پر محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم میں موجود رہے اور صوبہ بھر میں جاری جلوسوں و مجالس کی لائیو مانیٹرنگ کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 10 سالہ بچے کا گینگ ریپ کرنے والے تین ملزمان گرفتار
مانٹرنگ کی تفصیلات
محکمہ داخلہ مرکزی کنٹرول روم سے پنجاب بھر میں تمام 965 مجالس اور 205 جلوس مانیٹر کیے گئے۔ کابینہ کمیٹی نے پنجاب بھر کے کنٹرول رومز میں فرداً فرداً رابطہ کیا اور رپورٹ لی۔
یہ بھی پڑھیں: میں ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کروں گا، بابر اعظم دنیا کے بہترین پلیئر ہیں، شاہین آفریدی
خاص توجہ اور حفاظتی اقدامات
اس موقع پر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ پنجاب میں یوم شہادت حضرت علیؓ کے تمام 1170 جلوس و مجالس کی مکمل مانیٹرنگ یقینی بنائی گئی۔ صوبہ بھر میں عبادت گاہوں پر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق ادارے ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور محکمہ صحت کو ہائی الرٹ رکھا گیا تھا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں پاک چنار ونگ کے زیر اہتمام دوسری سالانہ بزنس کانفرنس کا انعقاد
امن و امان کی صورتحال کی نگرانی
کو چئیرمن کابینہ کمیٹی برائے امن و امان بلال یاسین نے اس موقع پر کہا کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ، پولیس اور منتظمین ایک پیج پر رہے۔ تمام شہروں کے داخلی خارجی راستوں پر بھرپور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے گئے اور صوبہ بھر میں اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی برقرار رکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے خاتون شادی کے لیے بارڈر کراس کرکے آئیں تو کیا کیا؟ پاک فوج کے کیپٹن نے دلچسپ قصہ سنا دیا
فوجی مانیٹرنگ اور سوشل میڈیا کی نگرانی
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ تمام مرکزی جلوسوں کی کواڈ کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی۔ محکمہ داخلہ کا سائیبر پٹرولنگ سیل فرقہ واریت میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لے رہا ہے اور شہری بھی سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ جلوس و مجالس کے مکمل منتشر ہونے تک ڈیوٹی پر موجود رہیں۔
اعلیٰ عہدے داروں کی موجودگی
سپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمان، سپیشل سیکرٹری داخلہ زینب خان، ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سیکیورٹی ماہم آصف ملک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان بھی محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم میں فرائض سر انجام دیتے رہے۔








