سیم زدہ وسیع زرعی رقبوں سے ہمکلام ہوئے، شکاری شکار کی طرف لپکا، اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے، درخت کے چاروں طرف تلاشی جاری رہی لیکن۔۔

مصنف کی زندگی کا آغاز

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 83
”سوئل سروے“ کی فیلڈ ڈیوٹی سے نوکری کا آغاز ہوا اور پنجاب، سندھ کے وسیع و عریض سرسبز و شاداب اور سیم زدہ وسیع زرعی رقبوں سے ہمکلام ہوئے۔ سیم و تھور سے گہنائی ہزاروں لاکھوں ایکڑ اراضی، تھل کے ریت کے بنے بنائے تاحدِّ نگاہ ٹیلے ایک ”سروئیر“ کو شکاری نہ بناتے تو ایک طرح سے یہ کیس ”دست درازیٔ پولیس“ ہی ہوتا۔ ایک عدد ”12 بور“ کی ساختہ بیلجیئم“ بندوق موٹی زین کے کور میں ڈال کر کندھے پر لٹکائے وہ جا رہے ہیں سروئیر عبد الغفور جانبازؔ اپنی روز مرہ کی فیلڈ ڈیوٹی پر۔

یہ بھی پڑھیں: نااہلی ریفرنس: عمر ایوب کو وکیل مقرر کرنے کی مہلت

تیتر کا شکار

پنجاب کے زرعی علاقوں میں تیتر عام حالات میں دستیاب نہیں ہوتا۔ اگر دن کے وقت کہیں آپ کی نظر پڑ بھی جائے تو آپ کی شِست باندھتے وہ ایک بھرپور اُڑان بھر جائے گا اور آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں، شکار برداشت کا دُوسرا نام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور یوتھ فیسٹیول کے لوگو اور فلوٹ کی رونمائی کا تیسرا دن، طلباء کی جانب سے زبردست خیر مقدم

شوقیہ شکاری کا تجربہ

مجھ جیسے شوقیہ شکاری جنہیں دن کو اپنی سوئل سروئے کی ڈیوٹی کے دوران دس بارہ کلو میٹر پیدل زرعی رقبوں میں جا کر ضروری کوائف کا اندراج کرنا ہوتا تھا، وہ یہ شوق ذرا ذرا محتاط اور فارغ وقت میں پورا کرتا تھا۔ تیتر کی موجودگی کا پتہ اُس کی اپنی مخصوص سُریلی آواز سے لگ جاتا ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اُس درخت کی اُس مخصوص شاخ کی طرف بڑھتا جا رہا ہوتا ہے جہاں ہر روز وہ شب بسری کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف مرحوم کی والدہ انتقال کر گئیں

صبر کا امتحان

یہ ایک بڑا ہی صبر آزما وقت ہوتا ہے۔ تیتر ایک دم سے اُڑان بھر کر اُس مخصوص شاخ پر آکر بیٹھ نہیں جاتا۔ وہ انتہائی محتاط قسم کا پرندہ ہے، وہ پُھونک پُھونک کر قدم رکھتا جاتا ہے اور آگے بڑھتا جاتا ہے۔ لیکن گرد و پیش پر اُس کی گہری نظر ہوتی ہے اور دوسرا وہ دن کے اُجالے میں فوراً درخت کی مخصوص شاخ پر نہیں بیٹھتا، اُس کی آمد کا وقت ہوتا ہے جب ہاتھ کو بھی ہاتھ سجھائی نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات استوار کرنے ہوں گے: علی جہانگیر صدیقی

شکار کا نتیجہ

اللہ اللہ کر کے وہ اپنی مخصوص ٹہنی پر بیٹھ گیا۔ لیکن نزدیک ہی تاک میں بیٹھے مجھے بالکل دکھائی نہیں دے رہا تھا کہ میں اُس کو نشانہ بنا سکوں۔ چنانچہ آج کی میری اور اُس کی ڈیوٹی ختم ہوئی اور میں ”ریسٹ ہاؤس“ میں واپس جا کر اپنے معمولات میں جُت گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی ثانیہ عاشق کا گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سنٹر نشتر ٹاؤن لاہور کا دورہ

صبح کی کارروائی

صبح جلد ہی نماز سے فارغ ہو کر منہ اندھیرے بندوق سنبھالے اُسی جگہ پر جا بیٹھا جہاں پچھلی شام کو تیتر براجمان ہوا تھا۔ جونہی رات نے اپنا پیرہن اُتارا تو جناب تیتر سامنے شاخ پر بیٹھا نظر پڑ گیا۔ فوراً کارتوس ڈالا اور بندوق سے ایک شور اُٹھا جس کی منزل درخت کی شاخ پر بیٹھا تیتر تھا۔ درخت پر بیٹھے سب چھوٹے بڑے پرندے آن واحد میں اُڑ گئے۔ شکاری اپنے شکار کی طرف لپکا۔

ناکامی کا سامنا

جائے وقوعہ پر پہنچا۔ اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے۔ سوائے بکھرے پروں کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پھر درخت کے چاروں طرف کئی کئی فٹ تک تلاشی جاری رہی لیکن
؎ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
پیچھے ہٹ کر اُداس و پریشان شکاری اپنی گن کی طرف متوجہ ہوا۔ اُسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔ پھر کارتوس کا ”خول“ جو بندوق سے نکالا تو آنکھیں خیرہ خیرہ ہوگئیں۔ یہ تو 6 نمبر کا نہیں بلکہ LG کا کارتوس ہم نے ڈال کر چلا دیا۔ جو بڑے شکار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اُس سے تو اُس بے چارے کا قیمہ ہی ہوگیا۔ بےچارے تیتر کا کیا قصور۔ اِس میں تو شکاری ہی قابلِ گردن زدنی ٹھہرا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...