4سال جواب جمع نہ کرنے پر کچھ نہیں ہوا اور 2ماہ میں حق دفاع ختم کردیا، جسٹس ہاشم کاکڑ
اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی ہرجانہ کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے پر نظرثانی کیس کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 4 سال تک جواب جمع نہ کرانے پر کچھ نہیں ہوا جبکہ 2 ماہ کے اندر حق دفاع ختم کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی منصوبے کی نقل میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی لیکن ہاتھ کچھ نہ آیا، اقتصادی اور سیاسی نقصان
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے پر نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس میں شہباز شریف کی جانب سے کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔ ٹرائل کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حق دفاع ختم کیا، جو کہ قانونی طور پر اس کا اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانی کا حق دفاع ایک مہینے میں مختصر تاریخوں کے ذریعے ختم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوا آیاں اے سوھنڑیاں …کراچی کی خونی سڑکوں نے مولا جٹ کے نوری نت کا بھی لحاظ نہ کیا
جسٹس ہاشم کاکڑ کے تبصرے
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنا ابتدائی جواب 4 سال بعد جمع کرایا تھا۔ بیرسٹر علی ظفر نے وضاحت کی کہ 4 سال تک عدالت کے دائرہ اختیار میں سماعت جاری رہی۔ جسٹس عائشہ ملک نے پوچھا کہ کیا جواب میں تاخیر پر عدالت نے کوئی کاروائی یا جرمانہ کیا؟ بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ جواب جمع نہ کرانے پر کارروائی کا اختیار موجود تھا، لیکن اسے استعمال نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے ملک میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیےبڑے فیصلے
کیس کی آئندہ سماعت
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ 4 سال میں جواب جمع نہ کرانے پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، لیکن 2 ماہ میں حق دفاع ختم کردیا گیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے کیس کی آئندہ سماعت ایک ماہ بعد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ وکیل مصطفی رمدے نے کہا کہ عدالت پہلے ہی ٹرائل روکنے کا حکم دے چکی ہے اور مناسب ہوگا کہ سماعت آئندہ ہفتے رکھی جائے، تاہم جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئندہ 2 ہفتے کے لیے بنچ دستیاب نہیں ہے۔
عدالت کا حکم اور مزید سماعت
عدالت نے حکم امتناع اس وجہ سے دیا کہ درخواست گزار کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ ہے، اس لیے عملدرآمد نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس عائشہ ملک نے وضاحت کی کہ 3 رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ٹرائل روکا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کردی۔








