پیکٹا کی مؤثر قیادت کی روشن مثال، صوبہ بھر میں گریڈ 8 کے سرکاری معیاری امتحانات کا تاریخی کامیاب انعقاد
پنجاب میں جماعت ہشتم کے امتحانات کا دوبارہ آغاز
لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) نے صوبہ بھر میں جماعت ہشتم کے معیاری پبلک امتحانات کو کامیابی سے بحال کر کے پنجاب کے تعلیمی نظام میں معیار، احتساب اور شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں موجود امریکا منتقلی کے منتظر ہزاروں افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کا فیصلہ
امتحانات کا شیڈول اور شرکت
یہ ہمہ گیر امتحانی سرگرمی 9 مارچ 2026 کو شروع ہوئی اور 12 مارچ 2026 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں پورے پنجاب سے تقریباً دس لاکھ طلبہ نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر مسرور احسن کا 27 ویں ترمیم کے معاملے پر اپوزیشن کو ایسا دلچسپ مشورہ کہ ایوان میں قہقہے لگ گئے
پیکٹا کے اقدامات
ماہرینِ تعلیم کے مطابق پیکٹا کی جانب سے جماعت ہشتم کے معیاری امتحان کی بحالی ایک اہم اصلاحی اقدام ہے جس کا مقصد تعلیمی معیار کو مضبوط بنانا اور اسکولوں میں میرٹ پر مبنی جانچ کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی سرپرستی اور صوبائی وزیر برائے اسکول ایجوکیشن رانا سکندر حیات کی نگرانی میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان میں ٹیلیفونک رابطہ
امتحانی نظام کی تیاری
پیکٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید موسیٰ علی بخاری کی قیادت میں اس وسیع امتحانی عمل کو نہایت پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور مؤثر انتظامی ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر زبیدہ ضیاء نے امتحانات کی تعلیمی منصوبہ بندی، اسیسمنٹ ڈیزائن اور معیار کی یقین دہانی کے مجموعی فریم ورک کی نگرانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: چترال؛ شادی کے دوسرے دن نوجوان نے خود کشی کرلی
انتظامی عملہ اور مراکز
پورے پنجاب میں امتحانات کے انعقاد کے لیے 1,901 کلسترز اور 5,714 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جن میں 26,047 اسکولوں نے حصہ لیا۔ امتحانات کے انتظام کے لیے 6,104 سپرنٹنڈنٹس اور 21,735 انویجیلیٹرز تعینات کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان اور نوابشاہ میں فائرنگ کے واقعات میں 11 افراد جاں بحق
تربیتی سیشنز
صوبہ بھر میں یکساں اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پیکٹا نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز (DEAs) کے تحصیل فوکل پرسنز، سپرنٹنڈنٹس اور انویجیلیٹرز کے لیے جامع تربیتی سیشنز منعقد کیے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2026 کے امتحان میں شرکت کرنے والوں کے لئے اہم ہدایات جاری کردیں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال
پیکٹا کے تحت منعقد ہونے والے ان امتحانات میں ٹیکنالوجی پر مبنی نہایت شفاف اسیسمنٹ نظام متعارف کرایا گیا۔ پہلی مرتبہ امتحانی عمل میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ای مارکنگ، QR کوڈ والے جوابی اسکرپٹس، اور موبائل ایپلیکیشنز کا استعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چلتی ہی جا رہی ہے عمر رواں کی ریل، ہم کو یہیں اترنا ہے زنجیر کھینچیے۔۔۔گاڑی کی زنجیر کو شاعروں ادیبوں نے بڑا رومانوی اور معنی خیز رنگ دیا ہے
لائیو مانیٹرنگ ڈیش بورڈ
ایک اور نمایاں جدت کے طور پر پیکٹا نے امتحانی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ تیار کیا اور اسے فعال بنایا۔ اس نظام کے ذریعے مرکزی کنٹرول رومز کو صوبہ بھر کے تمام امتحانی مراکز سے معلومات ملتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت: مارٹر گولہ پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق، 12 زخمی
معاونت اور مانیٹرنگ
امتحانات کے انعقاد میں بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISEs) نے بھی معاونت فراہم کی۔ اس کے ساتھ، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پیکٹا اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی مشترکہ مانیٹرنگ ٹیموں نے روزانہ 1,500 سے زائد امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون نے بھارتی کرکٹر یش دیال پر شادی کا جھانسہ دے کر جسمانی طور پر حراساں کرنے کا الزام عائد کردیا
تعلیمی جانچ کا نظام
جماعت ہشتم کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پیکٹا نے 9 مارچ سے اسکول بیسڈ اسیسمنٹ (SBA) کا بھی بیک وقت انعقاد کیا، جس میں تقریباً 68 لاکھ طلبہ شامل ہوئے۔
عوامی اعتماد کی بحالی
ماہرین تعلیم، والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے پیکٹا کے اس شفاف اور ٹیکنالوجی سے مزین امتحانی نظام کو بے حد سراہا ہے اور اسے پنجاب کے اسکولی تعلیمی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی اور تعلیمی معیار میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔








