پیکٹا کی مؤثر قیادت کی روشن مثال، صوبہ بھر میں گریڈ 8 کے سرکاری معیاری ‏امتحانات کا تاریخی کامیاب انعقاد

پنجاب میں جماعت ہشتم کے امتحانات کا دوبارہ آغاز

لاہور (ویب ڈیسک) ‏پنجاب کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی‎ (PECTAA) نے صوبہ بھر میں جماعت ہشتم کے معیاری پبلک امتحانات کو کامیابی سے بحال کر کے پنجاب کے تعلیمی نظام میں معیار، احتساب اور شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ نے بیرسٹر علی ظفر کو جوڈیشل کمیشن کا ممبر تعینات کر دیا

امتحانات کا شیڈول اور شرکت

یہ ہمہ گیر امتحانی سرگرمی 9 مارچ 2026 کو شروع ہوئی اور 12 مارچ 2026 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں پورے پنجاب سے تقریباً دس لاکھ طلبہ نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف کا اہلیہ کے ہمراہ سندس فاؤنڈیشن اسلام آباد سنٹر کا دورہ، تھیلیسیمیا تشخیصی ٹیسٹ کروایا

پیکٹا کے اقدامات

ماہرینِ تعلیم کے مطابق پیکٹا کی جانب سے جماعت ہشتم کے معیاری امتحان کی بحالی ایک اہم اصلاحی اقدام ہے جس کا مقصد تعلیمی معیار کو مضبوط بنانا اور اسکولوں میں میرٹ پر مبنی جانچ کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی سرپرستی اور صوبائی وزیر برائے اسکول ایجوکیشن رانا سکندر حیات کی نگرانی میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے امریکہ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا۔

امتحانی نظام کی تیاری

پیکٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید موسیٰ علی بخاری کی قیادت میں اس وسیع امتحانی عمل کو نہایت پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور مؤثر انتظامی ہم آہنگی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر زبیدہ ضیاء نے امتحانات کی تعلیمی منصوبہ بندی، اسیسمنٹ ڈیزائن اور معیار کی یقین دہانی کے مجموعی فریم ورک کی نگرانی کی۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1600 روپے کا اضافہ

انتظامی عملہ اور مراکز

پورے پنجاب میں امتحانات کے انعقاد کے لیے 1,901 کلسترز اور 5,714 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جن میں 26,047 اسکولوں نے حصہ لیا۔ امتحانات کے انتظام کے لیے 6,104 سپرنٹنڈنٹس اور 21,735 انویجیلیٹرز تعینات کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سینٹر سے معاشقے کا دعویٰ کرنے والی لڑکی کو کس کام کی بھاری رقم ملتی تھی؟ ایسا انکشاف کہ آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں۔

تربیتی سیشنز

صوبہ بھر میں یکساں اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پیکٹا نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز‎ (DEAs) کے تحصیل فوکل پرسنز، سپرنٹنڈنٹس اور انویجیلیٹرز کے لیے جامع تربیتی سیشنز منعقد کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے دورے پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکہ میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں

ٹیکنالوجی کا استعمال

پیکٹا کے تحت منعقد ہونے والے ان امتحانات میں ٹیکنالوجی پر مبنی نہایت شفاف اسیسمنٹ نظام متعارف کرایا گیا۔ پہلی مرتبہ امتحانی عمل میں مصنوعی ذہانت‎ (AI) ‎پر مبنی ای مارکنگ، QR کوڈ والے جوابی اسکرپٹس، اور موبائل ایپلیکیشنز کا استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور عراق میں ہزاروں پاکستانی پھنس گئے

لائیو مانیٹرنگ ڈیش بورڈ

ایک اور نمایاں جدت کے طور پر پیکٹا نے امتحانی تاریخ میں پہلی مرتبہ لائیو ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ تیار کیا اور اسے فعال بنایا۔ اس نظام کے ذریعے مرکزی کنٹرول رومز کو صوبہ بھر کے تمام امتحانی مراکز سے معلومات ملتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آڈیو لیکس کیس: علی امین گنڈا پور کیخلاف فرد جرم کی کارروائی مؤخر

معاونت اور مانیٹرنگ

امتحانات کے انعقاد میں بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن‎ (BISEs) ‎نے بھی معاونت فراہم کی۔ اس کے ساتھ، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، پیکٹا اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی مشترکہ مانیٹرنگ ٹیموں نے روزانہ 1,500 سے زائد امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، جعلی پیر نے شہری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

تعلیمی جانچ کا نظام

جماعت ہشتم کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پیکٹا نے 9 مارچ سے اسکول بیسڈ اسیسمنٹ‎ ‎‎(SBA) ‎کا بھی بیک وقت انعقاد کیا، جس میں تقریباً 68 لاکھ طلبہ شامل ہوئے۔

عوامی اعتماد کی بحالی

ماہرین تعلیم، والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے پیکٹا کے اس شفاف اور ٹیکنالوجی سے مزین امتحانی نظام کو بے حد سراہا ہے اور اسے پنجاب کے اسکولی تعلیمی نظام میں عوامی اعتماد کی بحالی اور تعلیمی معیار میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...