جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں: علی پرویز ملک
موجودہ صورتحال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ 2 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صرف بولنے پر دہشت گردی کے 14 مقدمات بنائے گئے، صنم جاوید
پاکستان کی تیل کی درآمد
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک سے کروڈ آئل درآمد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے کروڈ آئل 4 سے 5 دن میں پہنچتا ہے۔ اب سعودی عرب ینبو بندرگاہ سے پاکستان کو تیل فراہم کرے گا جو 15 سے 20 روز میں پاکستان پہنچے گا۔ پی این ایس سی کے 2 جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، اب سعودی عرب سے تیل بردار جہاز عمان پہنچے گا اور ریفائنریز 15 سے 20 روز میں تیل سپلائی کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکیم شہزاد عرف لوہا پاڑ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
بحران کی وجوہات
وزیرِ پیٹرولیم نے کہا ہے کہ تیل کی درآمد کے لیے جہاز نہیں مل رہے اور اگر کوئی جہاز مل جائے تو اس کی انشورنس نہیں مل پا رہی۔ تیل کی قیمت 149 اعشاریہ 87 ڈالرز تک پہنچ چکی تھی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت 78 ڈالرز سے بڑھ کر 120 ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 2022ء کی طرح طے کرنی ہیں تو خسارہ کون برداشت کرے گا جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی اوسط قیمت پر ہوتا ہے۔ اس فارمولے کو تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔
قیمتوں کا تعین
وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 15 روز کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جا رہا ہے کیوں کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ جمعے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کیا جائے گا اور پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین ہوگا۔








