جنوبی افریقہ جیسا ملک ماضی کی تلخیاں بھلا کر ترقی کا زینہ طے کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ بات اتنی ہے معاف کرنا سیکھیں۔ درویشی کا راز بھی اسی میں ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 465
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان پولیس میں نیا تنازع پیدا ہوگیا، ایڈیشنل آئی جی بلوچستان کا نئے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار
سرکاری نظام کا تجزیہ
تنتیس (33) سال تک اس سرکاری نظام کا معمولی حصہ رہنے کے بعد مجھے ایک بات سمجھ آئی اور وہ یہ ہے کہ زار روس کے پہلے زار، جسے تاریخ "ایوان چہارم یعنی Ivan the terrible" کے نام سے جانتی ہے، سے اخذ کی کہ ہم اور ہمارا نظام ویسا ہی ہے جیسا اُس جیسے حد درجہ سفاک، بے رحم انسان کے دور میں تھا۔ عوام کی خدمت، سیاست، طاقت، جزا و سزا پر اس کے اپنے خیالات اور اصول تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے سالانہ کتنے اخراجات ہوتے ہیں؟
سیاست کا بے رحمانہ چہرہ
اپنے خیال سے اختلاف کرنے والوں اور ناپسندیدہ افراد کے لیے وہ بے رحم تھا۔ کھولتے پانی اور تیزاب کی آمیزش میں لوگوں کو ڈال کر تماشا دیکھتا تھا۔ اس کے نزدیک بھوک سے مرنے کا مطلب تھا کہ عام لوگ گناہ بہت کرتے ہیں۔ اس نے oprichnina جاری کی اور اس پالیسی کے پیرو oprichriki کہلائے، یعنی شاہ کے ذاتی افراد۔ یہ ہر قانون سے مبرا تھے اور ان سے پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدے پر وزیراعظم شہبازشریف نے صدر ٹرمپ سے اظہار تشکر کا پیغام جاری کردیا
موجودہ حالات کا تجزیہ
اسی تناظر میں اپنے ملک کے مقتدر حلقوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ان میں بھی بہت زار چہارم ایوان سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ یہ رجحان صرف سیاست سے وابستہ افراد میں نہیں بلکہ سبھی میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ معاشرہ واضح طور پر دو حصوں میں بٹا ہے: حاکم اور محکوم۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ 13 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی، حاملہ ہونے پر مقدمہ درج
انصاف کا بحران
انصاف کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ بھی اپنی اپنی جگہ چھوٹے چھوٹے فرعون ہیں۔ بے گناہ افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں جبکہ گناہ گار آرام دہ کمروں میں چین کی نیند سوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے جنگی جرائم ہیں: مشاہد حسین سید
قانون کی بے بسی
یہاں، ایک "رانی بی بی" کو اٹھارہ (18) سال کی قید کے بعد باعزت بری کر دیا جاتا ہے، جبکہ محمد انور بیس (28) سال جیل میں گزارنے کے بعد بے گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ نسل در نسل مقدمات کا فیصلہ نہ ہونا، اور کون قصور وار ہے؟ جواب شاید یہی ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن ہمارے فیصلے کرنے والے بھی شاید اندھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بھارتی جارحیت کے خلاف قرار داد لانے کا فیصلہ
امید کا پیغام
یہ مایوسی کی انتہا ہے، لیکن میں مسلمان ہوں اور مسلمان کے لیے ناامیدی اور مایوسی گناہ ہے۔ کب ان گناہوں سے بخشے جائیں گے، اللہ ہی جانتا ہے۔ دور ایک ٹمٹماتی روشنی ضرور ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ یہ چراغ ضرور روشن ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
یہ بھی پڑھیں: جنگی جنون میں بھارتی فوج نے سرحد سے متصل مزید کتنے دیہات خالی کروا لیے ۔۔۔۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
معلومات کا اختتام
ساؤتھ افریقہ جیسا ملک ماضی کی تلخیاں بھلا کر ترقی کا زینہ طے کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ بات اتنی ہے کہ معاف کرنا سیکھیں۔ درویشی کا راز بھی اسی میں ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








