عدالت میں عمران خان کی کوئی میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی، بس ایک ڈاکٹر کی رائے تھی جو پمز کا انچارج ہے،بابر اعوان
سینئر قانون دان بابر اعوان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر قانون دان بابر اعوان کا کہنا ہے کہ عدالت میں عمران خان کی کوئی میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی، بس ایک ڈاکٹر کی رائے تھی، جو پمز کا انچارج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: چلتے رکشے میں بیٹھی لڑکی نامعلوم سمت سے گولی لگنے سے جاں بحق
پریس کانفرنس کی تفصیلات
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسی پمز ہسپتال سے شہباز شریف کی جعلی میڈیکل رپورٹ جاری کی گئی تھی اور بعد میں وہ ڈاکٹرز شرمندہ ہوتے رہے۔ کل حکومتی وکلاء نے عدالت میں یہ بھی مانا کہ عمران خان کا علاج ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کے 5 جنگی جہاز گرانا ہماری افواج کی صلاحیت اور تیاری کا ثبوت ہے: اویس لغاری
عمران خان کی صحت کے حوالے سے مطالبات
ہم عمران خان کیلئے صرف 2 چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں، پہلا انہیں شفا انٹرنیشنل میں منتقل کیا جائے، دوسرا ان کی بہن جو ڈاکٹر ہیں، انہیں وہاں موجود رہنے دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے تحریر کردہ خبریں قارئین کے لیے زیادہ پیچیدہ ہیں،تحقیق
عدالت میں حکومتی وکیلوں کے اعترافات
بابر اعوان نے مزید بتایا کہ ہم نے عدالت میں حکومتی نمائندہ وکیلوں سے 4 چیزیں منوائیں اور انہوں نے مانیں بھی۔ پہلی، عمران خان کی بیماری کو چھپایا گیا اور بیمار ہونے کے ڈھائی مہینے بعد آدھی رات کو ہسپتال لایا گیا، وہ بھی جیل مینول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، یہ ایک مجرمانہ غفلت تھی۔
بیماری کی چھپانے کے نتائج
اس جعلی رجیم سے پہلا سوال یہ ہے کہ تم نے بیماری کیوں چُھپائی؟ بیماری چھپانے سے آنکھ کی 85 فیصد بینائی کا نقصان ہوگیا۔ آج تک عمران خان کی آنکھ میں بلڈ کلاٹ کی تفتیش نہیں ہوئی کہ وہ ہوا کیوں؟








