رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں مجموعی درآمدات 45 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں

پاکستان میں غیر ملکی مصنوعات پر انحصار میں اضافہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کا غیر ملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا، گاڑیوں اور اسمارٹ موبائل فونز سمیت متعدد غیر ملکی لگژری اشیاء کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگیا، موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران مجموعی درآمدات 45 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: آکسیجن مانگنے پر ڈاکٹر نے مریض پر تھپڑوں اور مکوں کی بارش کردی، ویڈیو وائرل

آئی ایم ایف کی قسط اور امپورٹس

آئی ایم ایف کی ایک قسط سے زیادہ مالیت کے تو صرف اسمارٹ موبائل فونز اور گاڑیاں امپورٹ کی گئیں، زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء کی درآمد بھی بڑھ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دوسرے نیشنل سکولز شطرنج چیمپئن شپ 2025 کا انعقاد، ذہین طلبہ کا قومی سطح پر ذہنی مقابلہ

غیر ملکی درآمدات کا جائزہ

رپورٹ کے مطابق غیرملکی درآمدات میں 8.21 فیصد اضافہ ہوا، حجم 45 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا، جولائی تا فروری امپورٹس میں 3 ارب 45 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نسیم شاہ کے گھر پر فائرنگ کرنے کے الزام میں تین ملزمان گرفتار

خوراک کی درآمدات میں اضافہ

زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا امپورٹڈ خوراک پر انحصار بڑھنے لگا، غذائی اشیا کی درآمدات میں 18.42 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 6.41 ارب ڈالر ہوگیا، گزشتہ سال کے مقابلے ایک ارب ڈالر کی اضافی غذائی اشیاء امپورٹ ہوئیں۔

مہنگی اشیاء کی درآمدات

دستاویز کے مطابق مہنگی کاروں کی امپورٹ 126 فیصد اضافے سے 1.53 ارب ڈالر سے زائد رہی، چینی، خشک میوے، چائے، مصالحے، سویا بین اور پام آئل کی امپورٹ بھی بڑھی۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...