بابر اعظم اور فخر زمان انجured، تحقیقات کروائیں گے کہ کیسے 2 اہم کھلاڑی ورلڈ کپ کے فوری بعد انجured ہو گئے، عاقب جاوید
بابر اعظم اور فخر زمان کی انجری کی وضاحت
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلا دیش سیریز میں شامل نہیں جبکہ فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے 2 اہم کھلاڑی ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی قیادت کو بالغ نظری کے ساتھ قومی ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے: لیاقت بلوچ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کارکردگی
لاہور میں قومی سلیکشن کمیٹی کی پریس کانفرنس کے دوران عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم سے بڑی امیدیں تھیں مگر ہم اس طرح پرفارم نہیں کرسکے جیسا کرنا چاہیے تھا، بھارت کے ساتھ رزلٹ اب تک 8 صفر ہے اس میں سب شامل ہیں مگر بھارت کا میچ الگ کر دیں باقی آپ ایک میچ ہارے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
انجری کی تحقیقات
عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اعظم انجرڈ ہیں اس لیے وہ بنگلا دیش کے خلاف سیریز میں شامل نہیں جبکہ فخر زمان بھی انجرڈ ہیں، تحقیقات کرائیں گے کہ کیسے 2 پلیئرز ورلڈ کپ کے فوری بعد انجرڈ ہو گئے، یہ جاننا ہے کہ کیا وہ ایونٹ کے دوران ہی انجری کا شکار ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گیلپ سروے پر عظمیٰ بخاری کا رد عمل بھی آ گیا
نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا
انہوں نے کہا کہ بابر اعظم سمیت کسی کے ورلڈ کپ کے جانے نہ جانے کے حوالے سے مل کر فیصلہ ہوا جبکہ بنگلہ دیش میں ہم نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہے۔ عاقب جاوید کے مطابق بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا فی الحال کھیلنے کے لیے فٹ نہیں ہیں اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر فائنل میں پہنچ جاتے تو یہ کیا کھیلنے کے لیے فٹ ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: ریم آرٹ گیلری نے آرٹ کے شائقین کے لیے “کلرز آف یونٹی” کے نام سے نمائش کا اہتمام کیا
پلیئنگ الیون کی ذمہ داری
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ سیمی فائنل میں پہنچیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، یہ طے ہے پلیئنگ الیون کوچ اور کپتان کی ذمہ داری ہے، ہمیں کوئی شوق نہیں کہ ہم یہاں بیٹھ کر 11 پلیئرز کا فیصلہ کریں، پلیئنگ الیون کی تشکیل میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے۔
کپتان اور کوچ کی آزادی
یہ آزادی کوچ اور کپتان کو ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے ہی گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کو لڑانا ہوتا ہے، ورلڈ کپ کی پلیئنگ الیون کا حق کپتان اور کوچ کو ہونا چاہیے تھا اور یہ وہی بتا سکتے ہیں کہ کون کیوں نہیں کھیلا۔








