مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے اور معاشی استحکام میں بگاڑ کا خدشہ
پاکستان کی معاشی صورتحال: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور مہنگائی
اسلام آباد، لندن (ویب ڈیسک) مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے اور معاشی استحکام میں بگاڑ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے ملکی معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی بڑھتی لاگت پاکستان کی معاشی بحالی کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا فیصل آباد میں بس اور ٹرالر حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
آبنائے ہرمز: عالمی تیل کی تجارت کا محور
بی بی سی کے مطابق پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے تحت کام کرنے والے سرکاری ادارے پاکستان انسٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں سمندر کے راستے تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ 2026 کے آغاز میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، جسے ماہرین خالصتاً طلب و رسد کے بجائے ’جیوپولیٹیکل وار پریمیم‘ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: شارع فیصل پر پولیس کار کو ٹکر مار کر فرار ہونے والے ڈمپر ڈرائیور نے گرفتاری دے دی
معاشی اثرات: قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے ملکی معیشت براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے پاکستان کے سالانہ تیل درآمدی بل میں تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی ڈائیلاگ 2026 کے موقع پر چوہدری سالک حسین اور رباب عبداللہ العثیمی کی ملاقات، لیبر سیکٹر میں تعاون کی راہیں تلاش کی گئیں
مہنگائی کی شرح میں اضافہ
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر بھی فوری اثر ڈالتا ہے، بالخصوص ٹرانسپورٹ کے اخراجات، خوراک کی قیمتوں اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں۔ اگر آبنائے ہرمز تین ماہ تک بند رہی تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کا ماہانہ تیل درآمد کرنے کا خرچہ تقریباً 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ مہنگائی کی شرح، جو کہ فروری 2026 میں تقریباً 7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، 15 سے 17 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
متبادل راستے اور فوری اقدامات
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بحیرہ احمر کے ذریعے سپلائی کے لیے بات چیت ہوئی ہے، تاہم اس متبادل راستے کی اپنی حدود ہیں، جس میں محدود ترسیلی گنجائش، زیادہ ٹرانسپورٹ لاگت اور طویل ترسیلی وقت شامل ہیں۔ یہ مہنگا حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تیل کے سٹریٹجک ذخائر میں بہتری، سپلائی کے متبادل راستے تلاش کرنا، قیمتوں کے خطرات سے بچاؤ کے لیے ہدفی ہیجنگ پالیسی اپنانا اور قلیل مدتی مالیاتی اقدامات شامل ہیں۔








