امریکہ کے ساتھ کئی ممالک آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے جنگی جہاز بھیجیں گے، ٹرمپ کا دعویٰ
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے کا دعویٰ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر مختلف ممالک اپنے جنگی جہاز بھیجیں گے۔ ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر وہ ریاستیں جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کی کوشش سے متاثر ہو رہی ہیں، امریکہ کے ساتھ مل کر اس اہم بحری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز روانہ کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: شہبازشریف اور اسحاق ڈار نجکاری میں یقین نہیں رکھتے، مفتاح اسماعیل
ممالک کی شناخت کا فقدان
تاہم صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک اس اقدام میں عملی طور پر شامل ہوں گے اور نہ ہی یہ تصدیق ہو سکی ہے کہ کسی ملک نے باضابطہ طور پر اپنے جنگی جہاز بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ بعد ازاں اپنی طویل پوسٹ میں ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک بھی اس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قربانی کا ایک جانور، قیمت 1.5 کروڑ روپے
سی این این کا وائٹ ہاؤس سے رابطہ
اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے سی این این نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، تاہم فوری طور پر کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ابا کے پاس مہنگی ترین گاڑیاں اور گھر ہیں لیکن مجھے ایک روپیہ نہیں دیتے” کروڑپتی باپ کی بیٹی سڑک کنارے بریانی بیچنے پر مجبور ہو گئی
ایران کے اثرات
دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حمل تقریباً رک جانے کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور امریکی انتظامیہ کو اس بحران پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
فرانس اور برطانیہ کی حمایت
گزشتہ ہفتے ہونے والے جی سیون اجلاس کے بعد فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ فرانس آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی یقینی بنانے کے لیے بحری اتحاد کی حمایت کرتا ہے، تاہم اس کے لیے باقاعدہ تنظیم اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی جس میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے بات چیت ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی بھی عملی اقدام سے پہلے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے.








