خطے کے ڈائنامکس تبدیل، ایران عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے، اگلہ ممکنہ ہدف کیا ہو گا؟ الجزیرہ کا تجزیہ
ایران کی نئی حکمت عملی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے، اگلہ ممکنہ ہدف کیا ہوگا؟ اس حوالے سے الجزیرہ نے تجزیہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہن کو بھائی سے جائیداد میں حصہ دلوانے کیلئے ہندو جج نے قرآن اٹھا لیا
ایران کی حکمت عملی میں تبدیلی
غیر ملکی جریدے "الجزیرہ" نے اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ ایران بظاہر اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کی پروفیسر روکسین فرمان کے مطابق خلیجی ملکوں پر حملے کرکے امریکہ کو جنگ بند کرنے پر آمادہ کرنے کی ایرانی پالیسی کام کرتی نظر نہیں آرہی لیکن ایرانی پالیسی نے خطے کے ڈائنامکس تبدیل کردیئے ہیں۔ ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف دنیا میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرسکتا ہے، بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت کو روک سکتا ہے۔
مستقبل کے ممکنہ ہدف
’’جنگ‘‘ کے مطابق روکیسن فرمان نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پورٹ پر حملہ ہوچکا ہے، ایران کا اگلا ممکنہ ہدف سعودی عرب سے بحیرۂ احمر جانے والی تیل کی پائپ لائنیں ہوسکتی ہیں۔ سعودی پائپ لائنوں پر حملوں کا امکان بہت قوی ہے، کیوں کہ اب خلیج پر حملہ اصل ہدف نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خلیج اور دنیا میں جنم لینے والے اس درد کو واشنگٹن میں وہاں کی سٹاک مارکیٹ اور پمپس پر محسوس کیا جاتا رہے۔








