فرانس کی آبنائے ہرمز کھلوانے یا جنگ میں مدد کیلئے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید
فرانس کی جانب سے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانس نے آبنائے ہرمز کھلوانے یا جنگ میں مدد کے لیے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید کر دی۔
اس حوالے سے فرانس کا کہنا ہے کہ ہمارا بحری بیڑہ مشرقی بحیرہ روم میں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی روس پر نئی پابندیاں، یوکرین جنگ بندی کیلئے بھی پرامید ہوں: ٹرمپ
سوئٹزرلینڈ کا امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا فیصلہ
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے براہِ راست منسلک امریکی فوجی پروازوں کو ملک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایئرپورٹس کی بندش میں مزید 6 گھنٹے کی توسیع، پی اے اے کا نوٹم جاری
امریکی صدر کا چین اور دیگر ممالک سے مدد طلب کرنا
امریکی صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے چین سمیت دنیا بھر سے مدد مانگ لی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہُرمُز کی بندش سے متاثر کئی ملک اسے کھلا رکھنے کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر اپنے جنگی بحری جہاز بھیج رہے ہیں۔
عالمی برادری سے تعاون کی امید
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ چین کے ساتھ ساتھ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز بھیجیں گے۔ آبنائے ہرمز سے تیل لینے والے ممالک اس راستے کی سیکیورٹی خود یقینی بنائیں۔








