پاکستان کے معاشی حالات اور دنیا سے تعلقات، سہیل وڑائچ نے سب کچھ واضح کردیا
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال
لاہور (ویب ڈیسک) خطے کی صورتحال کے پیش نظر دنیا بالخصوص خلیجی ممالک کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بھی ہوچکا، لیکن پاکستان کے معاشی حالات زیادہ اچھے دکھائی نہیں دیتے۔ آئی ایم ایف کا سہارا لیا گیا، اب اس ساری صورتحال میں سینئر کالم نویس سہیل وڑائچ نے اپنا تجزیہ پیش کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے یورپ کے دروازے کھل گئے، ہزاروں ملازمتوں کے مواقع
معاشی چallenges اور مشکلات
روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ "امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں پاکستان فیصلہ کن لمحات میں آکھڑا ہے۔ ہماری عزت و وقار اپنی جگہ، ہمارے وزیر اعظم کی دنیا بھر میں جپھیاں اور پپیاں اپنی جگہ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی حالت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ دنیا بھر کے دورے اور آئے دن کے معاہدے ہمارا پیٹ نہیں بھر رہے۔ ہم قرضوں پر قرضے لے رہے ہیں، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہماری سکڑتی معیشت کی پائوں کی رنجیر بنی ہوئی ہیں۔ ہماری آدھی سے زیادہ صنعتیں بند پڑی ہیں۔
تیل اور بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، 3 سال کی مسلسل کوشش کے باوجود بیرون ملک سے سرمایہ کاری آنے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکسوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ان کی آمدنی دس سال پہلے جتنی رہ گئی ہے۔ تعمیراتی شعبہ جو 20 سے زیادہ شعبوں کا انجن ہے، اس پر اتنا ٹیکس لگ چکا ہے کہ کسی سرمایہ کار کو اس شعبے سے دلچسپی نہیں رہی۔ صنعتی کاروباری ادارے اپنے بزنس دوسرے ملکوں میں منتقل کر رہے ہیں، اور پاکستانی نوجوان اپنا مستقبل دوسرے ملکوں میں دیکھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر یومیہ ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہا، رپورٹ
وزیر اعظم کی ذمہ داریاں
وزیر اعظم شہباز شریف اس کام کے لیے موزوں اور آئیڈیل شخص ہیں۔ اپنے قابل والد میاں محمد شریف سے انڈسٹری اور مینجمنٹ کی ٹریننگ لی، خود اتفاق گروپ اور شریف گروپ کا برسوں تک بزنس سنبھالے رہے، وہ معاشی نفع اور نقصان کو خوب جانتے ہیں۔ ایران جنگ کے بعد سے شہباز شریف کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ وہ پاکستان کے وقار اور اس کے مرتبے کے مطابق اس کی معیشت کو بھی استوار کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں جاری
دفاعی معاہدے کی اہمیت
سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اندر خانے کیا چل رہا ہے اس کا تو علم نہیں، لیکن پاکستان کی جکڑی معیشت کو اس معاہدے سے کھولنے کی امید بندھی تھی۔ امریکہ سے ہمارے آئیڈیل تعلقات ہیں مگر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے علاوہ کوئی نیا معاشی معاہدہ یا پاکستان کے لیے کوئی نیا دفاعی سازو سامان، ایف 16 طیارے یا معاشی بہتری کے لیے کوئی امداد ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ: اسرائیلی و امریکی مشترکہ آپریشن کے مختلف نام سامنے آگئے
اقتصادی اصلاحات کی ضرورت
یاد رکھنا چاہئے کہ ملک کا دفاع مضبوط رکھنا ہے تو اس کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔ دفاع کو مضبوط رکھنے، فوج کو جدید اور دنیا کے مقابل بنانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی جو مضبوط دفاعی ساکھ ہے اس کو برقرار رکھنے کے لیے صحت مند معیشت از حد ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ نے بڑا قدم اٹھا لیا
نون لیگ کی قیادت کے چیلنجز
نون لیگ کو دوبارہ سے زمام اقتدار ملنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ عمران خان پاکستانی معیشت کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لے آئے تھے۔ مقتدرہ کا خیال تھا کہ نون لیگ ہمیشہ سے ایسی پالیسیاں بناتی ہے جس سے ملک معاشی طور پر بہتر ہوتا جاتا ہے۔ نون نے معیشت کو مستحکم تو کیا، ڈالر کے ریٹ کو بھی سنبھالا، مگر نہ قرضے لینے بند کیے نہ کوئی بڑا معاشی قدم اٹھایا تاکہ ملک زمین سے اٹھ کر چلنا شروع کر دے۔
حکومت کی کارکردگی کا جائزہ
شہباز حکومت کو دو سال گزر چکے ہیں، کیا اب فیصلہ کن لمحہ آ نہیں گیا کہ معیشت میں بدلاؤ آئے؟ عوام قربانیاں دے دے کر تھک چکے، انہیں کوئی ریلیف ملے گا تو حکومت کامیاب تصور ہو گی ورنہ اسے ناکام ہی تصور کیا جائے گا۔








