بھارت نے بیسیوں ڈیم بنا کر اپنے دریاؤں کے پانی کو زراعت کو ترقی دینے کے لیے محفوظ کیا، جبکہ ہم نے گزشتہ 50 برسوں میں کوئی ایک ڈیم بھی نہیں بنایا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کو اہلیہ سے ’تھپڑ‘ پڑنے پر صدر ٹرمپ کا موقف بھی آگیا
واقعہ کی تفصیل
قسط: 336
اس امر کی مسلمہ حقیقت دنیا پر اس وقت واضح ہوئی جب جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ کے پارلیمنٹ ہاؤس کیپٹل ہل واشنگٹن میں 6 جنوری 2021ء کو ڈونلڈ ٹرمپ کے لڑاکا حامیوں کے حملے کی خبر پوری دنیا کو حیرت زدہ کر گئی۔ ٹرمپ کے اشتعال آمیز اور تشدد سے بھرپور بیانات اور تقریروں کے باعث کیپٹل ہل پر حملہ اس وقت کیا گیا جب امریکی الیکشن کے فائنل آفیشل رزلٹ کے لیے کیپٹل ہل پارلیمنٹ ہاؤس میں لاء میکرز کا اجلاس ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زین قریشی سمیت 11پارٹی ارکان کے پارٹی قیادت سے رابطے منقطع
پاکستانی جمہوری صورتحال
اسی طرح کا ایک سہرا پاکستانی بزنس ٹائیکون کے سر پر بھی سجا ہے۔ جب 28 نومبر 1997ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان پرسوچی سمجھی سازش کے تحت اس وقت حملہ کیا گیا جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں توہینِ عدالت کیس کی سماعت شروع ہوئی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس کے بعد کس طرح سے ججوں کو تقسیم کیا گیا اور پھر کوئٹہ پہنچ کے 2 ججوں سے چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کروائی گئی جو کہ پاکستانی جمہوری سیاست کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیک پال اور مائیک ٹائسن کی مڈبھیڑ: ایک یوٹیوبر کی 31 سال بڑے باکسنگ لیجنڈ کے خلاف لڑائی جو نیٹ فلکس پر براہ راست دکھائی جائے گی
معتمد خاص امور کا بیان
اس وقت کے معتمد خاص امور وزیر خارجہ گوہر ایوب نے اپنی کتاب ”گِلپمسز اِنٹو دی کوری ڈورز آف پاور“ میں بیان کیا ہے کہ ایک دن وزیر اعظم چیمبر میں انہیں بلا کر اپنی اس خواہش ناتمام کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ پر کسی طرح توہینِ پارلیمنٹ کا کیس چلایا جائے جس پر واضح کیا کہ ایسا کسی طرح ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی جرنیلوں اور ایٹمی سائنسدانوں کے نام سامنے آگئے
پاکستان اور بھارت کی صورتحال کا موازنہ
ایوبی دور کے 2 مرتبہ منتخب ممبر قومی اسمبلی چودھری جلیل احمد خان اپنی کتاب ”جدوجہد حیات“ میں رقمطراز ہیں کہ ”میں 1983ء میں انڈیا گیا تھا۔ اس وقت انڈیا میں غربت بہت تھی اور بہت کم لوگوں کو اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تھا۔ وہاں پر کاریں اور موٹر سائیکل بہت کم تھے۔ غربت کے مارے لوگ سائیکل چلاتے تھے۔“
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب دفاعی سسٹم تھاڈ کو اسرائیل منتقل کر دیا
وقت کی تبدیلی
اُس وقت 1983ء میں پاکستان کے حالات بہت اچھے تھے۔ یہاں موٹر رکشہ اور کاریں عام تھیں اور لوگ اچھے کپڑے پہنتے تھے۔ اب 2007ء میں جب میں دوبارہ بھارت گیا تو ہندوستان میں ہر قسم کی چھوٹی سے بڑی گاڑیوں کی بھرمار تھی۔ طالب علم لڑکے، لڑکیاں اور عورتیں موٹر سائیکل چلاتی پھرتی تھیں۔ اب انڈیا میں موٹر سائیکل اور کاریں بہت بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں آن لائن آرڈر پر منشیات سپلائی کرنے والی خاتون منشیات فروش گرفتار
زراعت اور صنعت کی ترقی
گزشتہ 20/21 سالوں میں ہندوستان زراعت، صنعت و تجارت میں بے حد ترقی کرتا گیا اور ہم اسی عرصے میں بہت پیچھے چلے گئے۔ کیونکہ بھارت نے اس عرصہ میں بیسیوں ڈیم بنا کر اپنے دریاؤں کے پانی کو زراعت کو ترقی دینے کے لیے محفوظ کیا۔ پانی سے سستی بجلی بنا کر اپنی صنعت و حرفت کو ترقی دی جبکہ پاکستان کے حکمرانوں نے گزشتہ 50 سالوں میں کوئی ایک ڈیم بھی نہ بنایا۔
اقتصادی اثرات
نتیجتاً ہماری برآمدات کی بڑھوتری رک گئی اور زراعت صنعت و حرفت زوال پذیر ہوتی گئی۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی بڑھتی گئی اور ہم صرف انڈیا سے نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیاء سے بنگلہ دیش سمیت تمام ممالک سے پیچھے رہ گئے جن سے ہم جنرل ایوب خان کے دور میں سب سے آگے تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








