پنجاب ایمرجنسی سروس کے ملازمین سول نہیں، پبلک سرونٹس ہیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے ملازمین کے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین سول سرونٹس کی تعریف میں نہیں آتے۔
یہ بھی پڑھیں: ارچنا پورن سنگھ میں نایاب اعصابی بیماری کی تشخیص: مرض سے متعلق ڈاکٹروں کا حیران کن انکشاف
فیصلے کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کا حکم نامہ کالعدم قرار دیدیا اور حکومت کی اپیلیں منظور کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: 16 نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
ملازمین کی حیثیت
فیصلہ کے مطابق پنجاب ایمرجنسی سروس کے ملازمین کی حیثیت پبلک سرونٹس کی ہے، ریسکیو 1122 کے ملازمین کے سروس معاملات میں پنجاب سروس ٹربیونل کا کوئی دائرہ اختیار نہیں، محض ادارہ سرکاری محکمہ بننے سے ملازمین خود بخود سول سرونٹ نہیں بن جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائی کورٹ؛ مخصوص نشستوں کی تقسیم کیخلاف درخواست، ن لیگ کی اقلیت کی نشست پر ٹاس کی استدعا
قانونی فریم ورک
سپریم کورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے ملازمین علیحدہ قانونی فریم ورک اور رولز 2007 کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں، 2021 کی ترمیم کے بعد بھی پنجاب ایمرجنسی سروس آزاد قانونی محکمہ کے طور پر کام کر رہی ہے۔
محکمانہ تادیبی کارروائیاں
خیال رہے کہ ریسکیو ڈرائیور محمد خلیل نے اپنے خلاف ہونے والی محکمانہ تادیبی کارروائیوں کو پنجاب سروس ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا، سروس ٹربیونل نے معاملے پر نئے سرے سے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا تھا، حکومتِ پنجاب کا موقف تھا کہ ریسکیو 1122 کے ملازمین مخصوص قانونی ڈھانچے کے تحت پبلک سرونٹس ہیں。








