بنگلادیش سے شکست، شاہد آفریدی کی سلیکشن کمیٹی پر شدید تنقید
شاہد آفریدی کی تنقید
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست اور ٹی 20 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یاسمین راشد کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں خارج
سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پیغام میں شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیم کی حالیہ ناکامیوں کی بنیادی ذمے داری سلیکشن کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرحوم شہری نادرا ریکارڈ میں زندہ اور کنوارہ قرار، بچوں کو ب فارم کے حصول میں مشکلات
کمیٹی کی ناکامی
ان کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں شامل افراد نے خود بہت کرکٹ کھیلی ہے مگر اس کے باوجود انہیں یہ اندازہ نہیں کہ کس فارمیٹ کے لیے کون سا کپتان موزوں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خودکش حملے میں شہید ہونے والے 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی
نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت
آفریدی نے کہا کہ ٹیم میں مسلسل تبدیلیاں اور مبینہ طور پر سرجری کے نام پر تجربات ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے جنہوں نے ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہت کم میچز کھیلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 7ہزار 700روپے مہنگا، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟ جانیے
طبی عملے کی قربانیاں
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مریضوں کو بچانے کے لیے طبی عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ریسکیو کارروائی کی۔ اس دوران عملے کے بعض افراد بھی زخمی ہوگئے جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس پی شہر بانو نقوی نے ڈاکٹر علی زین کے سنگین الزامات کی تردید کردی
ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار
سابق آل راؤنڈر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اتنا بلند نہیں کہ وہاں سے آنے والے کھلاڑی فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ پکی کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا ثالثی کیلئے اپنا نمائندہ خصوصی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان
تبدیلیوں کا اثر
انہوں نے مزید کہا کہ بار بار نئے کھلاڑیوں کو کیپ دینا دراصل مسئلے کا حل نہیں بلکہ ٹیم کے استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔
سینئر کھلاڑیوں کی اہمیت
شاہد آفریدی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ون ڈے فارمیٹ میں اچھا ریکارڈ رکھنے والے سینئر کھلاڑیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا، حالانکہ انہیں ٹیم میں برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔








