کم آمدن والے افراد کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا کفایت شعاری پالیسی سے بچنے پر سبسڈی فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی اعزاز سید صدر آصف علی زرداری کو عہدے سے ہٹائے جانے کی خبر پر ڈٹ گئے
سبسڈی کی فراہمی کا طریقہ کار
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا، جو موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی۔ 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کو سبسڈی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہر تازہ سیاسی، قانونی مسئلے کو بار کے اجلاسوں میں اٹھا دینا گویا اپنے اْوپر لازم کررکھا تھا، یوں وکلاء کو مجبور کرتے کہ قومی مسائل پر غور و فکر کریں
مستحقین کے لئے معیار
حکام کے مطابق سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کر دی۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائے گی۔ جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نفرت کی سیاست نے کچھ نہیں دیا، ہمیں ملک کی خاطر ذاتی انا قربان کرنا ہوگی: مریم نواز
کمیٹی کے سوالات اور حکام کا جواب
کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے اور کون سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ روپے کا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو دیا جائے، جس پر حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچت کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر میرا اثر و رسوخ ہوتا تو آج چیئر مین پی سی بی ہوتا، شاہد آفریدی
علاقائی کشیدگی کا اثر
اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے کی کشیدگی کے بعد سپلائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا کہ ڈیزل کی عالمی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر اور پیٹرول 130 ڈالر فی بیرل ہوچکی ہے۔ موجودہ ذخائر کا استعمال بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: چینی شہری کے گھر سے کروڑوں روپے لوٹنے والوں کو پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے پکڑ لیا، انتہائی قریبی لوگ ہی چور نکلے
موجودہ ذخائر اور قیمتوں کا تعین
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم سپلائی متاثر ہوئی ہے، 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں، جہازوں کی آمدورفت بند ہے۔ عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ ذخائر کا استعمال بڑھا دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: نمبرز پورے ہیں، آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کی کوششیں کررہے ہیں:عطا تارڑ
تیل کی درآمد کی اجازت
انہوں نے کہا کہ اب یورو5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پیٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے، خام تیل کے ذخائر 11 دنوں کے لئے ہیں، ڈیزل کے ذخائر 21 اور پیٹرول ذخائر 27 دنوں کے لئے کافی ہیں۔
ایل پی جی اور جیٹ فیول کی معلومات
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی کے 9 دن کے ذخائر اور جیٹ فیول کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، روس سے بھی تیل کی خریداری کی کوشش کی جا رہی ہے۔








