کم آمدن والے افراد کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا کفایت شعاری پالیسی سے بچنے پر سبسڈی فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سکولوں میں اے آئی کا استعمال لازمی قرار، گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ
سبسڈی کی فراہمی کا طریقہ کار
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا، جو موٹر سائیکل اور رکشہ رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی۔ 30 ملین ٹو ویلرز اور تھری ویلرز کو سبسڈی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نان سموکرز میں پھیپھڑوں کا کینسر کیوں پھیل رہا ہے؟
مستحقین کے لئے معیار
حکام کے مطابق سبسڈی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کر دی۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائے گی۔ جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑا اضافہ
کمیٹی کے سوالات اور حکام کا جواب
کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے اور کون سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ارکان نے کہا کہ روپے کا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو دیا جائے، جس پر حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچت کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی متحد ہو کر مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، سراج الحق
علاقائی کشیدگی کا اثر
اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے خطے کی کشیدگی کے بعد سپلائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بتایا کہ ڈیزل کی عالمی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر اور پیٹرول 130 ڈالر فی بیرل ہوچکی ہے۔ موجودہ ذخائر کا استعمال بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قوم متحد ہے، حکومت سے امید ہے کشمیر کا مسئلہ حل کرائے گی: حافظ نعیم الرحمان
موجودہ ذخائر اور قیمتوں کا تعین
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم سپلائی متاثر ہوئی ہے، 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطیٰ سے آتی ہیں، جہازوں کی آمدورفت بند ہے۔ عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا ہے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ ذخائر کا استعمال بڑھا دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹ ٹیم کا چیمیپئنزٹرافی کیلئے پاکستان آنے سے انکار،چیئرمین پی سی بی کا مؤقف بھی آ گیا
تیل کی درآمد کی اجازت
انہوں نے کہا کہ اب یورو5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پیٹرول کی دستیابی ملک بھر میں ہے، خام تیل کے ذخائر 11 دنوں کے لئے ہیں، ڈیزل کے ذخائر 21 اور پیٹرول ذخائر 27 دنوں کے لئے کافی ہیں۔
ایل پی جی اور جیٹ فیول کی معلومات
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ ایل پی جی کے 9 دن کے ذخائر اور جیٹ فیول کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، روس سے بھی تیل کی خریداری کی کوشش کی جا رہی ہے۔








