سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا؟ برطانوی اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف
ایران کے سپریم لیڈر کی غیبت
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا ہے؟ اس حوالے سے برطانوی اخبار نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا موبائل فون کی بیٹری کو 100 فیصد چارج کرنا ٹھیک ہے؟ وہ بات جو آپ کو بھی جان لینی چاہیے
زخمی ہونے کے بعد روس منتقلی
تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو سرجری کے لیے روس منتقل کیا گیا ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبینہ طور پر فضائی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی ٹانگ کی سرجری کی گئی۔ مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو تہران پر ہونے والے امریکی اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل آج بھی وہی ہیں جو کئی دہائیاں پہلے تھے: بابر خان غوری
خفیہ منتقلی کی تفصیلات
’’جنگ‘‘ کے مطابق کویتی اخبار کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک روسی فوجی طیارے کے ذریعے خفیہ طور پر ماسکو منتقل کیا گیا، جہاں مبینہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے فراہم کردہ سہولت میں ان کا علاج کیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرجری کامیاب رہی۔ یہ معلومات ایک ایسے اعلیٰ سطحی ذریعے سے حاصل ہوئی ہیں جو نئے ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شرجیل میمن نے کراچی میں پنک بس سروس کا نیا روٹ شروع کرنے کا اعلان کردیا
یاد دہانی اور بین الاقوامی خدشات
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زخمی ہونے کی شدت کے باعث انہیں ایک خصوصی ہسپتال میں منتقل کیا گیا، اور یہ انتظام روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کیا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر ایک ٹیلیفونک رابطے میں علاج کی پیشکش کی۔ اسی شام مجتبیٰ خامنہ ای کو روس منتقل کر دیا گیا تھا۔
امریکی صدر کی رائے
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔ ابھی تک کسی نے انہیں نہیں دکھایا۔ میں سن رہا ہوں کہ شاید وہ زندہ نہیں، اور اگر زندہ ہیں تو انہیں اپنے ملک کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے اور ہتھیار ڈال دینا چاہیے۔








