40 کروڑ بیرل ایمرجنسی تیل جاری کرنے کے باوجود قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟
عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدستور بلند ہیں، حالانکہ عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سموگ وبال جان بن گئی، لاہور آلودہ ترین شہروں میں آج بھی سر فہرست
عالمی توانائی ایجنسی کا اقدام
سی این این کے مطابق گزشتہ ہفتے عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اس بات پر متفق ہوئے کہ عالمی منڈی کو سہارا دینے کے لیے اپنے ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قلت کو کم کرنا تھا، تاہم اس کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
ایران کی صورتحال کا اثر
ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث روزانہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل خام تیل اور 50 لاکھ بیرل تیل سے بنی مصنوعات عالمی منڈی تک پہنچنے سے رک گئی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے اگر 40 کروڑ بیرل تیل کے ہنگامی ذخائر جاری بھی کیے جائیں تو وہ محض 26 دن میں عالمی منڈی میں جذب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میری وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات کراو تو ہی نیچے آؤں گا‘شہری ایم پی اے ہاسٹلز کی زیر تعمیر عمارت میں لگی کرین پر چڑھ گیا
فراہم کی جانے والی ہنگامی امداد
عالمی توانائی ایجنسی نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں فراہمی کے سب سے بڑے تعطل کو جنم دیا ہے۔ ادارے کے مطابق رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اقدام ہے جو وقتی طور پر عالمی منڈی کو سہارا دے سکتا ہے، تاہم تیل کی فراہمی کو مستقل طور پر مستحکم کرنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کی معمول کی آمدورفت دوبارہ بحال ہو۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو غیر قانونی موبائل سمز کی روک تھام کے لیے قواعد بنانے کا حکم دے دیا
ذخائر کی دستیابی
ادارے نے مزید بتایا کہ ایشیا اور اوشیانا کے ذخائر فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب کر دیے جائیں گے، جبکہ امریکہ اور یورپ کے ذخائر مارچ کے اختتام تک مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
مارکیٹ میں رسد کے طریقے
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق تیل کے ذخائر کو مارکیٹ میں مختلف طریقوں سے فراہم کیا جا سکتا ہے، جن میں ٹینڈر کے ذریعے فروخت، قرض کی بنیاد پر فراہمی یا براہِ راست ریفائنریوں کو فروخت شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قلت کو کم کرنا اور قیمتوں کو قابو میں لانا ہے。








