خود کو مصروف عمل رکھنے کے لیے ہائی کورٹ کے پلیٹ فارم سے وکلاء کے غیر سیاسی فورم تھنک ٹینک لائرز کونسل آف پاکستان میں سرگرم عمل رہا
مصنف کی معلومات
مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 337
یہ بھی پڑھیں: چین میں شہباز شریف اور نریندر مودی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
نئی جماعت مسلم لیگ (ق) کا قیام
جنرل پرویز مشرف کے 12 اکتوبر 1999ء کے اقدام سے بہت پہلے، دس بارہ مسلم لیگی ایم این اے، کرنل سرور چیمہ، بیگم عابدہ حسین، فخر امام نے نیم کھلے انداز میں اور سلیم سیف اللہ، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے ساتھ اختلاف کرنا شروع کر دیا تھا۔ مسلم لیگی قائدین، جن میں میاں اظہر پیش پیش تھے، نے بغاوت کر دی تھی۔ سب دوست میاں اظہر کے بلاوے پر روزانہ ہوٹل میں بیٹھتے تھے۔ مسلم لیگی حلقوں میں اس خیال نے تقویت پکڑ لی کہ مسلم لیگ کو نئے سرے سے تنظیم کی ضرورت ہے۔ اس طرح 2001ء میں میاں محمد اظہر کی قیادت میں ہم خیال مسلم لیگ اور بعد ازاں مسلم لیگ قائداعظم کے نام سے وجود میں آ گئی، جس کے پہلے صدر میر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین اور سلیم سیف اللہ سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے۔ چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کے لیے صوبائی صدر منتخب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن کی نیاز مسلم لائبریری میں زیک انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ کے طلباء نے علمی و ادبی محفل سجائی
پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) میں شمولیت
جن دنوں میاں محمد اظہر ہم خیال قائداعظم مسلم لیگ بنانے کے لیے سرگرداں تھے، لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ وکلاء محاذ کے جنرل سیکرٹری محمد اسلم زار میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے میرے آفس آئے اور مجھے بتایا کہ مسلم لیگی قائد میاں محمد اظہر سابق میئر لاہور و سابق گورنر پنجاب سے ان کا پرانا تعلق دوستی ہے۔ میاں اظہر دیگر مسلم لیگی قائدین بشمول چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی صاحبان سے مل کر مسلم لیگ کو نئے سرے سے منظم کرنے کی کاوش میں ہیں۔ ایڈووکیٹ محمد اسلم زار نے مجھے یہ کہتے ہوئے درخواست کی کہ ہم دونوں (محمد اسلم زار + رانا امیر) ماضی میں متحارب مسلم لیگی دھڑوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ آیئے مسلم لیگ قائداعظم میں مل کر ایک ہو کر کام کریں اور اس کے لائرز ونگ کو نئے سرے سے منظم کریں۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ میاں نوازشریف نے اپنے سابقہ دونوں ادوار وزارت عظمیٰ میں مایوس کیا ہے، اس لیے نوازشریف کی دو تہائی میجارٹی کے دوسرے دور اقتدار میں (ن) لیگ سے ازخود کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے 1997ء سے 2002ء کے دوران میں نے مسلم لیگ ہاؤس کا بھی رخ نہ کیا تھا، پھر بھی ہائی کورٹ بار میں میری پہچان ایک مسلم لیگی کی رہی کیونکہ میں نے اس دوران کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت نہ کی تھی۔ صرف خود کو مصروف عمل رکھنے کے لیے ہائی کورٹ کے پلیٹ فارم سے اپنے بنائے گئے وکلاء کے غیر سیاسی فورم تھنک ٹینک لائرز کونسل آف پاکستان میں سرگرم عمل رہا تھا۔
ترغیب اور شمولیت کا فیصلہ
بالآخر، میں نے جلد ہی ایڈووکیٹ محمد اسلم زار سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ قائداعظم میں شمولیت اختیار کر لی۔ وکالت کے ساتھ ساتھ اب میں اپنا زیادہ وقت مسلم لیگ (ق) لائرز ونگ کی تنظیم نو کی سرگرمیوں میں صرف کر رہا تھا۔ میاں محمد اظہر کے گھر گارڈن ٹاؤن میں ایڈووکیٹ محمد اسلم زار اور عالمگیر ایڈووکیٹ کی طرف سے بلائے گئے وکلاء کے پہلے باقاعدہ اجلاس میں شرکت کی اور مسلم لیگ وکلاء ونگ کی تنظیم نو کے لیے جمہوری نظریاتی خطوط کی نشاندہی کی تاکہ بارز کی سطح پر تمام مسلم لیگی دھڑوں کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ اجلاس کی صدارت میاں محمد اظہر نے کی۔ چند دیگر مسلم لیگی قائدین بھی شامل ہوئے۔ یہاں مجھے جڑانوالہ سے پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے رائے محمد اسلم ملے جو کہ ہمیشہ سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دونوں میں سلسلہ جنبانی رکھے ہوئے تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








