پاکستان کو تجارتی سرپلس والا ملک بنانے کے لیے اقتصادی تعاون کے منصوبے پر سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے دوران دستخط متوقع ہیں، سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق
اقتصادی تعاون کا نیا فریم ورک
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے اتوار کو کہا کہ ریاض اور اسلام آباد ایک وسیع البنیاد اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ اس منصوبے پر ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان کے دوران دستخط کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، والد نے غیرت کے نام پر بیٹی اور اس کے مبینہ آشنا کو قتل کردیا
پہلا معاہدہ اور جاری سرگرمیاں
اس فریم ورک پر پہلی بار اکتوبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران اتفاق کیا گیا تھا جس کا مقصد تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اس سے قبل عرب نیوز کو بتایا تھا کہ ریاض پاکستان کے ساتھ ’’جلد‘‘ ایک تزویراتی اقتصادی معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
احمد فاروق نے کہا کہ دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کو منصوبہ تیار کرنے کے لیے 90 سے 100 دن دیئے گئے تھے اور اس کے بعد سے رابطہ مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ولی عہد کب پاکستان کا سفر کریں گے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پہلے کہا تھا کہ یہ دورہ رواں سال کے آخر میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی پر جنگی جنون طاری، فضائی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کتنے ہزار کروڑ کا دفاعی نظام خریدنے کی تیاری کر لی۔۔۔؟ تہلکہ خیز انکشافات
اقتصادی فریم ورک کا مقصد
اقتصادی منصوبہ اس اقتصادی فریم ورک کا مقصد پاکستان کے مستقل تجارتی خسارے کو ختم کرنا اور اس کی برآمدی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اکتوبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کی ولی عہد سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت کئی تزویراتی منصوبوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
احمد فاروق نے کہا, "اقتصادی تعاون کے فریم ورک کا محور پاکستان کو تجارتی سرپلس (ایسا ملک جس کی برآمدات درآمدات سے زیادہ ہوں) والا ملک بنانا ہے، تجارتی خسارہ ایک بڑا معاشی چیلنج ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کو اگلے 14 سالوں میں تجارتی سرپلس والا ملک بنانے میں مدد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سبز باغ دکھانے والے اب اپنی چالوں میں کامیاب نہیں ہونگے: ہمایوں اختر
عالمی تجارت اور بین الاقوامی تعلقات
احمد فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فریم ورک صرف پاک ،سعودی تجارت تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا, "اس کا محور صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بقیہ دنیا کے ساتھ پاکستان کی عالمی تجارت ہے۔" اس لیے مملکت ہماری مجموعی برآمدات بڑھانے میں ہماری مدد کر رہی ہے تاکہ ہم معاشی طور پر مستحکم ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو مارنے کی دھمکیاں دینے والے ’ لارنس بشنوئی‘ پر ویب سیریز بنانے کا اعلان ہو گیا
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں سے خوشگوار تعلقات ہیں لیکن حال ہی میں دونوں نے اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ ستمبر میں دونوں ممالک نے ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو دونوں پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔ سنہ 2024 میں دونوں نے تجارت اور کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد شعبوں میں 2.8 بلین ڈالرز مالیت کی 34 مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے تھے۔
آنے والی اقتصادی شراکت داری
احمد فاروق نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا: "یہ منصوبہ ہماری اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور آنے والے سالوں میں پاکستان کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔"








