دشمن کے سات آٹھ جنگی جہاز حملہ آور ہوئے تو ”پاکستانی شاہین“ نگرانی پر تھے، لاہور کی فضاؤں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی، شاہینوں نے اُن کے پرخچے اُڑا دئیے

جنگ کے بعد کی تیاری

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 89
جنگ کے فوراً بعد میں نے ”شہری دفاع“ کی ”ہنگامی کلاس“ میں داخلہ لے لیا اور پھر جلد ہی شہری دفاع کا سامان لے کر توحید پارک گنج مغل پورہ میں ایک ”پوسٹ“ بنا دی۔ اتفاق دیکھئے کہ جنگ کے دوران محلےّ میں 3 دفعہ مختلف جگہوں پر آگ لگی اور ہم نے اپنے نوجوانوں کی مدد سے اُس شہری دفاع کے سامان کی مدد سے آگ پر جلد قابو پالیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، انٹرمیڈیٹ کے 28 مئی کو ہونے والے پرچے ملتوی

اسلحہ کی تیاری

میرے پاس 12 بور کی بندوق تھی جو میں نے اپنی 1953ء میں سروس کے شروع میں ہی خرید لی تھی۔ یہ اس لیے کہ ہماری ڈیوٹی دُور دراز کے علاقوں میں ”سوئل سروے“ کی تھی۔ لہٰذا وہاں ہلکے پھُلکے شکار کے لیے بندوق ضروری تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو ملٹری آپشن کھل جائے گا: چیئرمین واپڈا

رات کی نگرانی

جونہی پاکستان آرمی کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ دشمن کے ”پیرا ملٹری ٹروپس“ کسی بھی وقت آبادیوں پر پیرا شوٹ کے ذریعے اُتر سکتے ہیں لہذا جن لوگوں کے پاس اسلحہ ہے وہ خاص طور پر رات کو دھیان رکھیں۔ چنانچہ میں رات بھر L.G. کا کارتوس بندوق میں ڈال کر محلہ میں رات بھر دُور دُور تک چکرّ لگاتا رہتا۔ ایک رات میں بندوق کندھے پر سجائے چکرّ لگا رہا تھا کہ لاہور ائیرپورٹ کے عین اوپر میں نے متعدّد روشنی کے گولے تیرتے دیکھے۔ یہ کس کی طرف سے تھے؟ گمان غالب ہے کہ وہاں نصب تنصیبات کو چیک کرنے کے لیے وہ روشنی کے گولے داغے گئے ہوں گے。

یہ بھی پڑھیں: آئی ایل ٹی 20 فائنل، نسیم شاہ اور کیرون پولارڈ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

ہوائی جنگ کا آغاز

اب ذکر ہوجائے اُس ہوائی جنگ کا جو لاہور شہر کے اوپر لڑی گئی۔ میں نے اور لاہور کے نڈر لوگوں نے اُسے گھروں کی چھتوّں پر چڑھ کر دیکھا۔ ہوا یوں کہ دشمن کے سات آٹھ جنگی جہاز بارڈر کراس کر کے جب حملہ آور ہوئے تو ”پاکستانی شاہین“ پہلے ہی تیاّر فضا میں نگرانی پر تھے۔ بس لاہور کی فضاؤں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ پاکستانی شاہینوں نے اُن کے پرخچے اُڑا دئیے۔ دشمن کے تین چار جہاز تو واہگہ بارڈر کے اِدھر ہی ڈھیر ہوگئے اور دو بارڈر کے اُس پار جا گرے۔ اس معرکے کے ہیرو گروپ کیپٹن”ایم ایم عالم“ تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شہرِ ہوائے غمزدہ،دیکھ بجھے چراغ کو۔۔۔۔

دوسرے محاذوں پر جنگ

دشمن نے ایک ہی دن میں کئی محاذوں پر پیش قدمی کی کوشش کی۔ سیالکوٹ سیکٹر میں فوجی جوان جسم سے بم باندھ کر ہندوستانی ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے اور ٹینک ناکارہ کر کے پیش قدمی روک دی۔ پھر پیچھے سے پاکستانی کمک بھی پہنچ گئی تو بنیا ہاتھ ملتا رہ گیا۔ اُدھر قصور سیکٹر میں بھی پاکستانی آرمی پیش قدمی کر گئی اور کافی ہندوستانی علاقہ پر قابض ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے چیمبر اپیل داخل کرنا چاہئے تھی جو نہیں کی، میں یہ مانتا ہوں، مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس میں سلمان اکرم راجہ کا اعتراف

ہندوستانی فوج کی ناکامی

”راوی سائفن“ کے راستے بھی ہندوستانی فوج نے پیش قدمی کا پلان بنایا لیکن عین موقع پر اطلاع ملنے پر اس منصوبے کو بھی خاک میں ملا دیا گیا۔ دریائے راوی پر واقع پُلوں پر بھی انڈین ائیرفورس نے گولہ باری کی کئی بار کوشش کی تاکہ لاہور کو باقی ملک سے کاٹ دیا جائے لیکن منہ کی کھانی پڑی اور دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اس جنگ میں لاہور جمخانہ میں شراب کے جام لنڈھانے کا خواب دیکھنے والے اپنے ہی کئی علاقے کھو بیٹھے اور شرمندگی اُن کا مقدر بنی۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...