اگلے مرحلے میں غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے صحت مند افراد کو ہنر سکھائے جائیں گے اور خود روزگاری کے وسائل مہیا کئے جائیں گے
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 339
یہ بھی پڑھیں: ہمارا باورچی مزارعہ کا ان پڑھ بیٹا تھا، ڈانٹ سے تنگ آکر ایک دن پوچھا، صاحب جی، یہ IDIOT کیا ہوتا ہے؟ میں نے شرارتاً کہا، بہت خوب، شاباش.
جنرل پرویز مشرف کا دور حکومت
جنرل مشرف کے دور میں کچھ اچھے کام دیکھنے کو ملے، جیسے:
- ضلع ناظم والی ضلعی حکومتوں / لوکل گورنمنٹ کا ایک عمدہ نظام
- میڈیا کی آزادی اور چینلز کی کھولنے کی منظوری
- سٹیل مل کو منافع بخش بنانا
- پاکستان کو آئی ایم ایف سے آزاد کر کے معیشت کو مستحکم کرنا
بینظیر بھٹو کے ساتھ دبئی جا کر این آر او جیسے معاہدے کرنا، جس کے نتیجے میں 10 سالہ پرانے تمام مقدمات حکومت نے واپس لے لیے اور بینظیر کی ملک واپسی ہوئی۔ نواز شریف نے بھی اسی این آر او سے فائدہ اٹھایا اور 10 سالہ معاہدے کے تحت جلاوطنی ختم ہونے سے پہلے ہی پاکستان واپس آنے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر نے ماجد ابن الرضا کو قائم مقام وزیر دفاع نامزد کر دیا
قومی انتخابات 2002 کے نتائج
جنرل پرویز مشرف کے دور میں قومی انتخابات 2002 کے بعد مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت قائم ہوئی۔ تقریباً ایک سال تک جمالی اور 3 ماہ چودھری شجاعت حسین وزیراعظم رہے، جبکہ بقیہ ساڑھے تین سال شوکت عزیز نے وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے ایک نئے جدید فیچر کو متعارف کروا دیا ، صارفین کا اہم مسئلہ حل ہو گیا
چودھری پرویز الٰہی کی کاوشیں
پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی، جو پنجاب مسلم لیگ (ق) کے صدر تھے، پانچ سال تک وزیر اعلیٰ رہے۔ نذیر ناجی، سینئر جرنلسٹ نے اپنے کالم "سویرے سویرے" میں ان کی تعریف کی ہے:
”پنجاب میں گزشتہ ساڑھے چار سال کا عرصہ امن اور ترقی کا دور رہا ہے۔ اس دوران صوبے میں 58 لاکھ 32 ہزار افراد کو روزگار ملا اور خواندگی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 62 فیصد ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملزمان کی بروقت شناخت کیلئے ڈی این اے کا مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ
تعلیم و صحت کے شعبے میں اقدامات
نذیر ناجی مزید لکھتے ہیں:
”چودھری پرویز الٰہی نے ہسپتالوں میں خصوصی ایمرجنسی بلاک تعمیر کیا اور عام آدمی کے لیے فوری طبی سہولیات فراہم کیں۔“
غربت کے خاتمے کی کوششیں
پنجاب حکومت نے غریب خاندانوں کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کیے، جن میں:
- 6 لاکھ 42 ہزار خاندانوں کی مالی امداد کا پروگرام
- ہر ایک خاندان کو 500 روپے ماہوار خصوصی امدادی رقم
- ہنر سکھانے اور خود روزگاری کے وسائل مہیا کرنے کا منصوبہ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








