ٹرمپ کے پاس کتنے آپشنز ہیں اور کیا آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر حل ہے ۔۔؟ سابق امریکی مشیر نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا
ٹرمپ کے پاس آپشنز کی تعداد
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ کے پاس کتنے آپشنز ہیں اور کیا آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر حل ہے؟ سابق امریکی مشیر باب مکنیلی نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور آرمی چیف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
باب مکنیلی کا انتباہ
تفصیلات کے مطابق امریکہ کے سابق وائٹ ہاؤس توانائی مشیر باب مکنیلی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں ہے، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کی کسی بھی جارحیت کے خلاف پاک فوج اور عوام سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے: ترجمان پاک فوج
عارضی اقدامات کی محدودیت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق باب مکنیلی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فوجی نگرانی، تیل کے سٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات محض عارضی اور ثانوی نوعیت کے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں، جن میں سے زیادہ تر یا تو علامتی ہیں یا غیر مؤثر، جبکہ کچھ فیصلے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
مسئلے کا حقیقی حل
باب مکنیلی نے کہا کہ اصل حل صرف یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر بحال کیا جائے، تاہم اگر امریکہ فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔ ایران اگر مسلسل یہ صلاحیت ظاہر کرتا رہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جب چاہے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو وہاں سے عالمی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کے لیے یہی کافی ہوگا۔








