مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، ماحولیاتی خطرات سے متعلق 300 سے زائد واقعات ریکارڈ، خلیج کی آبی حیات اور پرندوں کو بھی خطرہ
مشرقِ وسطی میں جنگ اور ماحولیاتی خطرات
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے نتیجے میں ماحولیاتی خطرات سے متعلق 300 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس کے سبب خلیج کی آبی حیات اور پرندوں کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا 20 اپریل کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا فیصلہ لیکن میزبانی کون کرے گا؟ پتہ چل گیا
کشیدگی کے اثرات
تفصیلات کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے نتیجے میں جاری کشیدگی سے صرف انسانی جانوں کو ہی نہیں بلکہ آبی حیات اور پرندوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی اور سمندری ٹریفک کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: روس اور ایران میں 20 سالہ معاہدہ طے پاگیا
ماحولیاتی خطرات کی رپورٹ
برطانوی فلاحی ادارے کنفلیکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کی جانب سے 10 مارچ کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع شروع ہونے کے بعد خطے میں ماحولیاتی خطرات کے 300 سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں، جن میں آئل ٹینکرز پر حملے بھی شامل ہیں۔ خلیج فارس کا اوسطاً 50 میٹر گہرا علاقہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحر ہند سے جڑا ہوا ہے، جو اس کے ماحولیاتی نظام کو کمزور بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ ایرانی قومی سلامتی کونسل کی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تردید
خلیج فارس کی آبی حیات
خلیج فارس میں پانی کی سست تجدید ہر 2 سے 5 سال میں تیل یا دیگر مختلف اقسام کی آلودگی کی پھیلاؤ کو محدود کرتی ہے۔ یہ خطہ ڈوگونگز کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جو پہلے ہی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پستول اور گولیوں پر درج خفیہ پیغام: امریکہ کو ہلا دینے والا قتل اور پولیس کے لیے ایک معمہ
حفاظتی تشویشات
ایک اندازے کے مطابق ڈوگونگز کی تعداد 5 ہزار سے 7 ہزار 500 کے درمیان ہے۔ خلیج فارس میں دیگر آبی حیات، جیسے ہمپ بیک وہیل اور وہیل شارک بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کے گرم پانیوں میں 2 ہزار سے زائد سمندری انواع موجود ہیں، جن میں 500 سے زیادہ اقسام کی مچھلیاں اور پانچ اقسام کے سمندری کچھوے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر واشنگٹن میں گر کر تباہ
حملوں کے واقعات
رپورٹ کے مطابق 1 مارچ سے اب تک یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کو آئل ٹینکرز پر حملوں سمیت 9 مختلف واقعات کی اطلاع ملی ہے، جن میں سے 8 کی انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صاحبزادہ حامد رضا کا پی ٹی آئی کور کمیٹی سے استعفیٰ ، اسمبلی رکنیت بھی چھوڑنے کا فیصلہ
تاریخی پس منظر
1991ء میں خلیجی جنگ کے دوران عراقی افواج کے ذریعہ تیل کے والوز کھولنے سے 11 ملین بیرل تیل سمندر میں پھیل گیا، جس نے سعودی ساحلی پٹی کو متاثر کیا اور 30 ہزار سے زیادہ سمندری پرندے مارے گئے۔ اس کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ گئیں۔
خطرناک دھماکے
جزیرہ نما عرب جنگوں کے دوران دھماکوں کا شور اور زہریلا دھواں سمندری پرندوں کی نقل مکانی کو متاثر کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ سمندری بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکہ خیز آلات آبی حیات اور سمندر کے قدرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔








