شعبہ صحت میں کام کرنے والی نجی تنظیموں نے سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا
سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) شعبہ صحت میں کام کرنے والی نجی تنظیموں نے سگریٹس پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ ایس پی ڈی سی اور سپارک نے نئے بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ تمباکو نوشی کو پاکستان میں صحت کو درپیش سنگین مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قاتلانہ حملے، مقدمات اور سیاسی انتقام: ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع سیاسی واپسی کس طرح ممکن ہوئی؟
تمباکو نوشی کی مہلک اثرات
نجی ٹی وی کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد اموات تمباکو نوشی کے باعث ہوتی ہیں۔ تمباکو سے بیماریوں کا معاشی بوجھ ایک ہزار 835 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سگریٹ ٹیکس سے آمدن صرف 266 ارب روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں کشمیریوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے: مشعال ملک
سگریٹ کی قیمتوں کا جائزہ
صحت سے متعلق نجی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں۔ فروری 2023 کے بعد سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ سستے سگریٹ نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا رجحان بڑھنے کی بڑی وجہ ہیں۔
ٹیکس میں اضافے کی تجویز
اکانومی سگریٹ برانڈز پر 35 روپے اور پریمیم پر 21 روپے ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں 51 ارب روپے اضافی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔








