والد کا بچوں کی تربیت کا اپنا انداز تھا، ظاہری طور پر سخت نگرانی، غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ اور تھپڑ تک رسید کرنے والے، گھر آتے تو سب سہم جاتے۔

مصنف کی شناخت

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 362

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس؛ وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس

والد کی تربیت کا انداز

میرے والد اولاد کو سونے کا نوالہ کھلانے اور شیر کی نظر سے دیکھنے کے قائل تھے۔ بچوں کی تربیت کا ان کا اپنا انداز تھا۔ دلی طور پر بے حد محبت ایثار کرنے والے لیکن ظاہری طور پر سخت نگرانی، غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ اور تھپڑ تک رسید کرنے والے جابر باپ کی مانند نظر آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون شادی کرنے کیلئے بھارت پہنچ گئی لیکن ممکنہ جوڑی کی عمر میں کتنا فرق ہے؟ تصاویر وائرل

خوف اور عزت

گھر آتے تو سب سہم جاتے۔ انہیں گھر میں والدہ اور دیگر وی آئی پی کی طرح عزت و احترام دیتے تھے اور ہم بچے نکتہ چینی ڈانٹ ڈپٹ کے خوف سے ڈرے سہمے رہتے تھے۔ ان دنوں ہم بچوں کو روز روز کی ڈانٹ ڈپٹ بہت بری لگتی تھی لیکن بڑے ہو کر مجھے اندازہ ہوا کہ باپ کی ڈانٹ ڈپٹ ہمیشہ بچوں کی بہتری میں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سیاحت کیلئے محفوظ ملک، لوگ امن پسند ہیں: عطا تارڑ

سخت تربیت کے فوائد

ان کے سخت گیر لب و لہجہ اور سخت ڈسپلن والی تربیت کی وجہ سے ہم نے ہر کام کو اہمیت دینا اور عمدگی سے انجام دینا سیکھا۔ ہم میں محنت کی لگن، احساس ذمہ داری، فرض شناسی اور خودداری جیسی اچھی عادات پیدا ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی لیکن اس دوران ایران کا کیا کردار رہا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کردیا

تعلیمی آزادی اور نگرانی

پرائمری مڈل کلاسز میں میری اچھی سکولنگ اور اچھے نتائج کے باعث مجھے فٹ بال، ہاکی، کرکٹ کھیلنے، واک اور تیراکی کے لئے نہر کی طرف جانے اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کی کافی آزادی ملی۔ لیکن نویں دسویں کلاسوں کے دوران میری نگرانی سخت ہوتی گئی اور ہاکی یا کرکٹ کھیلنا میرے لئے مشکل ہوگیا۔ بالخصوص دسمبر سے لیکر فائنل امتحان ہونے تک میرے کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل عاصم منیر جب کیڈٹ تھے تو پاکٹ سائز قرآن پاک ٹوپی میں رکھ کر ٹریننگ کرتے تھے،، بھارتی میڈیا کا انکشاف

والد کا پیچھا

اس دوران ایسا کئی مرتبہ ہوا کہ چھٹتی نہیں منہ کو لگے ہوئے کے مصداق میں کتاب ہاتھ میں تھامے گھر میں یہ کہہ کر کہ میں پڑھنے جا رہا ہوں گھر سے باہر چلا جاتا۔ انہوں نے خاموشی سے کافی فاصلہ رکھتے ہوئے کہ میں انہیں دیکھ نہ سکوں میرا پیچھا کیا کہ جونہی میں کھیل کے میدان میں اپنے دوستوں میں جا کر کھیل میں شامل ہوتا کہ والد صاحب پہنچ گئے اور آواز دیکر مجھے واپس بلا کر لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی 4 نئی کتب کی تقریب رونمائی، تحقیق کے دروازے بند کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں: مقررین کا تقریب سے خطاب

تعلیمی کامیابیاں

والد صاحب کی سخت نگرانی کے باعث اللہ کے فضل و کرم سے میں نے میٹرک کے امتحان میں اچھے ہائی فرسٹ کلاس نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں میرٹ پر داخلہ لینے میں کامیاب رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران جبوتی کا دورہ

ہوسٹل کی زندگی

گورنمنٹ کالج ہوسٹل میں رہتے ہوئے بھی گریجوایٹ بننے تک میری نگرانی جاری رہی۔ تعلیم کے لئے جڑانوالہ سے لاہور منتقل ہوتے ہی پہلے دن انہوں نے میرا بینک اکاؤنٹ لاہور میں کھلوایا جس میں وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو میرے کالج ہوسٹل اخراجات کے لئے مناسب رقم ٹرانسفر کر دیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد، خودمختار، ذمہ دار میڈیا ہی وہ طاقت ہے جو حکمرانوں کو جوابدہ بناتا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب

مالی حالات

گورنمنٹ کالج میں تعلیم کا زمانہ بہت سستا زمانہ تھا۔ دو اڑھائی سو روپے ماہانہ میں تمام ضروری اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔ لیکن تنخواہیں بھی بہت کم تھیں۔ زمین کی آمدنی بھی بہت کم تھی ایک ایکڑ زمین میں 5تا 7 من گندم پیدا ہوتی تھی جس کی قیمت بھی معمولی 10 روپے فی من سے بھی کم تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈرائیور کی بیوی کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

والد کا غیرموقع ملاقات

میری تعلیمی و دیگر مصروفیات کا جائزہ لینے کے لئے ہر ماہ کم از کم کسی ایک دن بغیر اطلاع کئے وہ میرے ہوسٹل میں مجھے ملنے آتے تھے۔ جب انہوں نے مجھے ہوسٹل سے باہر پایا تو واپس جڑانوالہ جا کر مجھے خط لکھتے جس میں بڑے سخت الفاظ میں میری خوب خبر لی جاتی اور سرزنش کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے یو اے ای کے صدر کی ملاقات، جاری منصوبوں کا جائزہ

خاندان کا تعاون

والد صاحب نے میرے دادا محمد شفیع خاں جو زمین پر اپنے انڈیا گاؤں والوں کے ساتھ چک نمبر131 جنوبی ضلع سرگودھامیں رہتے تھے سے گزارش کی کہ امیر کے کالج کا خرچ آپ اپنے ذمہ لے لیں۔ انہوں نے ذمہ داری لینے سے صاف انکار کر دیا البتہ میرے کالج کے اخراجات کے لئے میرے والد کے نام اپنی کل اراضی 71 ایکڑ میں سے30 ایکڑ میرے والد صاحب کے نام کروا دی اس طرح میرے والد صاحب کو میری تعلیم کے اخراجات پورا کرنے میں آسانی ہوگئی۔

اختتام

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...