بل معاف کرکے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی قرار داد بلوچستان اسمبلی میں منظور
بلوچستان اسمبلی میں قرار داد کی منظوری
کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان اسمبلی نے صوبے کے تمام بجلی صارفین کے ذمے واجب الادا بجلی کے بل معاف کرنے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی قرار داد منظور کر لی ہے۔ رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ آئی پی پیز کے بل ہم ادا نہیں کریں گے، جو بجلی استعمال نہیں کی اس کا بل کیوں ادا کریں؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بچہ بچہ چاہتا ہے کہ ملک مسائل سے باہر نکلے: شیخ رشید
اجلاس کی تفصیلات
آج نیوز کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ایک گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں شہدائے کارساز کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اراکین اسمبلی کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا۔ اجلاس کے دوران ضلع واشک کے علاقے شینگر کو تحصیل کا درجہ دینے کی قرارداد پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گوگل میپ کو فالو کرتے گاڑی میں سوار پوری فیملی دریا میں بہہ گئی
قرارداد کی پیشکش
یہ قرارداد رکن اسمبلی زابد علی ریکی نے پیش کی، تاہم محرک نے قرارداد واپس لے لی۔ اسمبلی میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے بلوچستان میں بجلی کے بلز کے بقایاجات معاف کرنے اور 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کا متن یہ تھا کہ صوبائی حکومت عوام کے ذمہ بجلی کے بقایاجات معاف کرنے کے اقدامات اٹھائے اور بلوچستان کے تین پاور پلانٹ سے صوبے کے عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، چینی کے بحران پر بریفنگ، سخت سوالات کی بوچھاڑ، کہاں ہیں شوگر ملز مالکان کی تفصیلات۔۔۔؟
رکن اسمبلی کا موقف
رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسمبلی میں دورجدید کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی پر بات کرنی چاہیے۔ ہم آج بھی بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی بات کررہے ہیں، آئی پی پیز کے بل نہیں ادا کریں گے۔
قرار داد کی منظوری اور اجلاس کا اختتام
انہوں نے مزید کہا کہ جو بجلی ہم استعمال نہیں کرتے اس کا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایوان نے بلوچستان میں بجلی کے بلز کے بقایاجات معاف اور 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی۔ اس کے بعد بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 21 اکتوبر سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔








