ایوب حکومت کے دوران بہت سے عدالتی فیصلے ایسے ہیں جنکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ججوں نے مارشل لاء یا حکومت کے دباؤ پر کیے
مصنف کا تعارف
مصنف: جسٹس (ر) بشیر اے مجاہد
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں تیزی، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
قسط: 57
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی فوج کا کرنل مارا گیا
آئین ساز اسمبلی کا تحلیل
پاکستان میں بہت سے لوگوں نے آئین ساز اسمبلی کے تحلیل کئے جانے کو جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کر دیا۔ مولوی تمیز الدین جو کہ اس اسمبلی کے سپیکر تھے سندھ ہائی کورٹ میں گورنر جنرل کے اقدام کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے گورنر جنرل کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ حکومت نے فیڈرل کورٹ میں اپیل کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اپنی کرنسی کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا
فیصلہ اور اثرات
جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں عدالت نے گورنر جنرل کے احکامات کو درست قرار دے دیا۔ انہوں نے اپنے فیصلہ میں گورنر جنرل کے احکامات اور اختیارات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئین ساز اسمبلی گورنر جنرل کا ایک ماتحت ادارہ تھا جسے ختم کر دیا گیا۔ گورنر جنرل نے نئی آئین ساز اسمبلی تشکیل دے دی، جس نے 1956ء میں آئین سازی مکمل کر کے ملک کو 1956ء کا آئین دے دیا۔ جسٹس منیر کا یہ فیصلہ ایک متنازعہ فیصلہ قرار پایا اور عوام میں اس تاثر کی بنیاد بن گیا کہ جوڈیشری کا رویہ حکومت یا طاقتور بااختیار لوگوں کے حق میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور
اختلافی نوٹ
اس مقدمہ میں فیڈرل کورٹ کے ایک جج جسٹس کارنیلس نے اختلافی نوٹ تحریر کیا، جس میں انہوں نے جسٹس منیر کے فیصلہ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے آئین ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کو غلط اقدام قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کے حق میں جو دلائل دیئے گئے ہیں وہ غلط ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصر ترکوں کے زیر اثر بھی رہا، بہت سارے ترک باشندے ہجرت کرکے یہیں آباد ہوگئے اور اپنے ساتھ خوبصورت دلکش آنکھیں لانا نہیں بھولے
مارشل لاء کا نفاذ
9 اکتوبر 1958ء کو صدر پاکستان جنرل سکندر مرزا نے ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرتے ہوئے آئین کو منسوخ اور اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا۔ اس موقع پر جسٹس منیر اور اُن کی عدالت میں جونہی اس مارشل لاء کے خلاف مقدمہ آیا تو محسوس ہوا کہ وہ تو اس کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ مسٹر جسٹس منیر نے مارشل لاء کے تمام اقدامات کو جائز قرار دے دیا اور اپنے فیصلہ میں معروف قانون دان ہانس کیلسن کی ایک سیاسی تھیوری..نظریہ ضرورت کے مطابق درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب بغاوت انقلاب کہلاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کی افسر بینش فاطمہ کیلئے بین الاقوامی ایوارڈ
ایوب خان کی کابینہ میں حیثیت
انہوں نے اپنے فیصلہ میں مارشل لاء کے نفاذ کو آئینی اور قانونی جواز مہیا کر دیا۔ یقینا عوام کو یاد ہو گا کہ بعد میں ایوب خان کے اقتدار کے چوتھے سال میں جسٹس منیر کو ایوب کابینہ میں وزیر قانون مقرر کیا گیا تھا مگر وہ جلد ہی وزارت سے مستعفی ہو گئے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد جسٹس کارنیلس بھی ایوب حکومت میں وفاقی وزیر قانون رہے مگر وہ بھی جلد ہی مستعفی ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ارمینا خان کی کار کو ٹرک نے ٹکّر مار دی، دلچسپ تصاویر سامنے آئیں
عدالتی فیصلے اور دباؤ
ایوب حکومت کے دوران بہت سے عدالتی فیصلے بھی ایسے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلے ججوں نے مارشل لاء ضوابط یا پھر حکومت کے دباؤ پر کیے۔ ان میں اہم ترین فیصلے وہ ہیں جو جسٹس اے آر چنگیز نے ایبڈو ٹربیونل میں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: کھاد، بیج اور بجلی کی قیمتوں میں ابھی تک کمی نہیں آئی، لیگی رہنما سائرہ افضل تارڑ کھل کر بول پڑیں
انصاف کا تقاضا
ان میں محض برائے نام الزامات پرعملاً جن کی حیثیت کچھ بھی نہ تھی بڑے اہم سیاست دانوں کو ایبڈو کر کے سات سال کے لئے سیاست سے نااہل قرار دے دیا گیا اور اُن کی وضاحت اور صفائی کو کوئی اہمیت نہ دی گئی۔ ایبڈو ٹربیونل کے فیصلوں کا ریکارڈ کہیں پر ضرور موجود ہو گا۔ اسے ضرور شائع ہونا چاہئے۔ ایوب خان اور سکندر مرزا نے تو آئین کو بھی منسوخ کر دیا تھا مگر جو لوگ اپنے نام کے ساتھ جسٹس لکھتے ہیں اُنہیں تو فیصلے کرتے ہوئے اپنے نام اور وقار کا کوئی خیال رکھنا چاہئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔