عورتوں کے دوپٹے چھین کر آئین سازی نہ کریں، علی محمد خان
حکومت کی آئینی ترامیم پر علی محمد خان کی تنقید
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کر کے ایوانوں کو بلڈوز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، حکومت کو ترمیم کرنی ہے تو کرے مگر ہماری بہنوں کی عزت اور اُن کے دوپٹوں کا تقدس پامال نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 بڑے ممالک غزہ پر اسرائیلی قبضے کے پلان پر کھل کر سامنے آ گئے
ایوان کی بے توقیری
ایکسپریس نیوز کے مطابق سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں علی محمد خان نے کہا کہ ایوانوں کو بلڈوز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس ایوان کی بے توقیری کی حدیں پار کی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسیحی اسپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا نے اپنا کاسٹنگ ووٹ پاکستان کے حق میں ڈال کر اسمبلی سے پنجاب کی پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد پاس کروائی
نقاب پوش اراکین کا معاملہ
انہوں نے کہا کہ اس ایوان سے نقاب پوش دس ارکان کو اٹھا کر لے گئے، یہ کیا کیا گیا؟ سپیکر ایاز صادق نے نقاب پوشوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان کیا۔ سپیکر صاحب بتائیں وہ ایف آئی آر کہاں ہے؟ آج سوال یہ ہورہا ہے کہ اس پارلیمان کی حیثیت کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف 36 سالہ اداکار نے خود کشی کرلی
عورتوں کے دوپٹوں کا تقدس
علی محمد خان نے کہا کہ آج میرے لیڈر پر سوال کیا جا رہا ہے، آپ آئین سازی کریں مگر عورتوں کے دوپٹے چھین کر آئین سازی نہ کریں۔ آپ چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرکے آئینی ترمیم چاہتے ہیں۔ بلاول نوازشریف بتائیں یہ سب کچھ آپ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ سے امریکی وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے کیلیے کوآرڈینیشن بہتر بنانے کا فیصلہ
بدعنوانی کا الزام
اُن کا کہنا تھا کہ کیا فیاض چجھڑا کے بیٹے کا گوشت پلاسوں سے نوچ کر اس کی والدہ کو لائیو دکھایا گیا؟ کیا ایسے گوشت نوچ کر آپ ووٹ چاہتے ہیں، کیا آپ اس طرح کی کارروائی میں ملوث ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر پر خادمِ حرمین شریفین کا امتِ مسلمہ کیلئے امن و استحکام کا پیغام
چیف جسٹس کے معاملے پر سوالات
علی محمد خان نے کہا کہ آپ چیف جسٹس کا تقرر پارلیمانی پارٹی میں حکومتی اکثریت لاکر کرنا چاہتے ہیں۔ آپ چیف جسٹس کو وزیر اعظم اور پارلیمانی کمیٹی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔
قاضی کی حیثیت اور اختیارات
انہوں نے کہا کہ اسلام میں قاضی کا مقام ہوتا ہے جو سربراہ حکومت کو بلا سکتا ہے۔ آپ قاضی کو ماتحت کرنا چاہتے ہیں، آپ یہ کر کے دیکھیں اگر کمزور چیف جسٹس ہوا تو کل کوئی مولوی مشتاق آپ کے لئے ہی بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون بتائیں انہیں کس سے مسودہ مل گیا تھا، وزیر قانون بتائیں انہیں مسودہ کس نے دیا۔ وزیر قانون نے تو دوسروں کو قانونی مسودہ دینا ہوتا ہے۔








