6 جی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ، سپیڈ کتنی ہوگی؟ جانیے

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) لندن کالج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تحقیق کے دوران 6 جی نیٹ ورک پر وائرلیس ڈیٹا بھیجنے کا تجربہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اسرائیل کو روکے، انسانیت کا امن مشرق وسطیٰ کے امن سے مشروط ہے: حافظ نعیم الرحمان

ڈیٹا کی تیز رفتاری

اس تجربے کے دوران ماہرین نے فی سیکنڈ 938 گیگابٹ ڈیٹا سینڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو موجودہ 5 جی کنکشنز کے مقابلے میں 9 ہزار گنا سے بھی زیادہ تیز ہے۔ آسان الفاظ میں، اس رفتار سے آپ فی سیکنڈ 20 سے زیادہ فلمیں ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں یا فی سیکنڈ 500 ای میلز سینڈ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہفتہ وار مہنگائی کی سالانہ شرح 2 اعشاریہ 30 فیصد ریکارڈ، 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

نئی فریکوئنسی اسپیکٹرم کا استعمال

ماہرین نے اتنی زیادہ تیزی سے ڈیٹا بھیجنے کی کامیابی ایک نئی فریکوئنسی اسپیکٹرم کے ذریعے حاصل کی جن کی پہلے کبھی آزمائش نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: آج بھی غزہ میں کربلا دہرایا جا رہا ہے اور عالم اسلام بدستور خاموش ہے: خواجہ آصف

ڈیٹا کی ترسیل کی تکنیک

ماہرین نے ریڈیو ویوز اور لائٹ کو باہم ملا کر استعمال کیا جس کی بدولت انہوں نے انٹرنیٹ کی رفتار کا سابقہ ریکارڈ توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ محققین نے یہ بات بیان کی کہ یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک تنگ اور سیدھی شاہراہ کو 10 لین کے ہائی وے میں تبدیل کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل

بینڈوidth کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمیں زیادہ گاڑیوں کے لیے کشادہ سڑکوں کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ہمیں زیادہ ڈیٹا بھیجنے کے لیے زیادہ بینڈ ودتھ کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: جہلم؛ تھانہ چوٹالہ کے 6 اہلکار سیلاب میں پھنس گئے

ٹیکنالوجی کی صارفین تک رسائی

ماہرین کی جانب سے اسمارٹ فون کمپنیوں اور نیٹ ورک پرووائیڈرز سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کو صارفین تک جلد پہنچایا جا سکے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل آف لائٹ ویو ٹیکنالوجی میں شائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف آج کی سیاست میں فی الحال کوئی کمال نہیں دکھا پا رہی، سزاؤں اور نا اہلیوں کا سیلاب بتا رہا ہے کہ سب اچھا نہیں: حامد میر

5 جی ٹیکنالوجی کا جائزہ

خیال رہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی کو 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اسمارٹ فونز کے لیے اس کی سپورٹ دستیاب ہے۔ امریکہ میں 5 جی موبائل انٹرنیٹ کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 204.9 ایم بی فی سیکنڈ ہے، مگر نظریاتی طور پر 5 جی کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 10 جی بی پی ایس ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورٹریٹ مہارت کے نئے دور کا آغاز، ویوو نے پاکستان میں V60 متعارف کروا دیا

6 جی ٹیکنالوجی اور مستقبل

جی ایس ایم ایسوسی ایشن کے مطابق 6 جی ٹیکنالوجی پر ابھی کام جاری ہے اور اسے 2030 کی دہائی کے شروع میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ 5 جی اور 6 جی میں بنیادی فرق الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کے فریکوئنسی بینڈز میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا بارش کے باعث دیوار گرنے سے 3 بچوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس

فریکوئنسی بینڈز کا فرق

5 جی سگنلز عموماً 6 گیگا ہرٹز سے 40 گیگا ہرٹز کے بینڈز کے درمیان ٹرانسمیٹ ہوتے ہیں جبکہ 6 جی کے لیے 100 سے 300 گیگا ہرٹز بینڈز سگنلز استعمال کیے جائیں گے۔

نئے انفراسٹرکچر کی ضرورت

چونکہ 6 جی ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ طاقتور فریکوئنسی بینڈز پر انحصار کیا جائے گا، اس لیے اس کے لیے نئے انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہوگی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...