6 جی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ، سپیڈ کتنی ہوگی؟ جانیے

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) لندن کالج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک تحقیق کے دوران 6 جی نیٹ ورک پر وائرلیس ڈیٹا بھیجنے کا تجربہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عمرہ ویزے کی آڑ میں پہلے سعودی عرب اور پھر غیرقانونی طور پر سمندر کے راستے اٹلی جانے کی کوشش ناکام، 5 مسافر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار

ڈیٹا کی تیز رفتاری

اس تجربے کے دوران ماہرین نے فی سیکنڈ 938 گیگابٹ ڈیٹا سینڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی، جو موجودہ 5 جی کنکشنز کے مقابلے میں 9 ہزار گنا سے بھی زیادہ تیز ہے۔ آسان الفاظ میں، اس رفتار سے آپ فی سیکنڈ 20 سے زیادہ فلمیں ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں یا فی سیکنڈ 500 ای میلز سینڈ کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: PAAPAM کی جانب سے پاکستان آٹوپارٹس شو 2024 کے حوالے سے پری ایونٹ پریس کانفرنس کا انعقاد

نئی فریکوئنسی اسپیکٹرم کا استعمال

ماہرین نے اتنی زیادہ تیزی سے ڈیٹا بھیجنے کی کامیابی ایک نئی فریکوئنسی اسپیکٹرم کے ذریعے حاصل کی جن کی پہلے کبھی آزمائش نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 30 اپریل تک ملک میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان

ڈیٹا کی ترسیل کی تکنیک

ماہرین نے ریڈیو ویوز اور لائٹ کو باہم ملا کر استعمال کیا جس کی بدولت انہوں نے انٹرنیٹ کی رفتار کا سابقہ ریکارڈ توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ محققین نے یہ بات بیان کی کہ یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک تنگ اور سیدھی شاہراہ کو 10 لین کے ہائی وے میں تبدیل کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزام میں مرکزی ملزم مولا بخش جکھرانی گرفتار

بینڈوidth کی ضرورت

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمیں زیادہ گاڑیوں کے لیے کشادہ سڑکوں کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ہمیں زیادہ ڈیٹا بھیجنے کے لیے زیادہ بینڈ ودتھ کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان جاوید ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے سیاحت معیشت کے کنوینئر مقرر

ٹیکنالوجی کی صارفین تک رسائی

ماہرین کی جانب سے اسمارٹ فون کمپنیوں اور نیٹ ورک پرووائیڈرز سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کو صارفین تک جلد پہنچایا جا سکے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل آف لائٹ ویو ٹیکنالوجی میں شائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک حالتِ جنگ میں ہے، افغانستان کیساتھ باقاعدہ لڑائی جاری ہے: طلال چودھری

5 جی ٹیکنالوجی کا جائزہ

خیال رہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی کو 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اسمارٹ فونز کے لیے اس کی سپورٹ دستیاب ہے۔ امریکہ میں 5 جی موبائل انٹرنیٹ کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 204.9 ایم بی فی سیکنڈ ہے، مگر نظریاتی طور پر 5 جی کی زیادہ سے زیادہ اسپیڈ 10 جی بی پی ایس ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی دفاعی تجزیاتی ویب سائٹ نے ایس 400 کی تباہی کو پاک بھارت جنگ کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا

6 جی ٹیکنالوجی اور مستقبل

جی ایس ایم ایسوسی ایشن کے مطابق 6 جی ٹیکنالوجی پر ابھی کام جاری ہے اور اسے 2030 کی دہائی کے شروع میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ 5 جی اور 6 جی میں بنیادی فرق الیکٹرو میگنیٹک اسپیکٹرم کے فریکوئنسی بینڈز میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی نے عمران خان کا حکم ہوا میں اڑا دیا

فریکوئنسی بینڈز کا فرق

5 جی سگنلز عموماً 6 گیگا ہرٹز سے 40 گیگا ہرٹز کے بینڈز کے درمیان ٹرانسمیٹ ہوتے ہیں جبکہ 6 جی کے لیے 100 سے 300 گیگا ہرٹز بینڈز سگنلز استعمال کیے جائیں گے۔

نئے انفراسٹرکچر کی ضرورت

چونکہ 6 جی ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ طاقتور فریکوئنسی بینڈز پر انحصار کیا جائے گا، اس لیے اس کے لیے نئے انفراسٹرکچر کی بھی ضرورت ہوگی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...