پاک روس دو طرفہ تعلقات میں اہم پیشرفت، روسی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان متوقع
پاک روس تعلقات میں نئی پیش رفت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک روس دو طرفہ تعلقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، روسی وزیر خارجہ کا آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل (ر) فیض حمید نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو بلٹ پروف گاڑی تحفے میں دی، خواجہ آصف
دورے کی تفصیلات
سفارتی ذرائع کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کی سائیڈ لائنز پر روس کے ساتھ دو طرفہ بات چیت میں آنے والے دورے کے معاملات طے پائے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو کا آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر میری پھوپھیوں کے ساتھ ہونے والے شرمناک سلوک کی شدید مذمت کرتا ہوں، قاسم خان
اہم معاملے اور منصوبے
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم کے بعد روسی وزیر خارجہ کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح وفد بھی پاکستان پہنچے گا، سٹیل ملز اور آئل ریفائنری، پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن سمیت توانائی کے منصوبوں پر بات چیت کا امکان ہے۔ پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے میں گیس سٹوریج فسیلیٹی کے قیام پر بھی بات چیت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطح کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
نارتھ ساو¿تھ ٹرانسپورٹ کوریڈور
سفارتی ذرائع کے مطابق دورے میں خصوصی طور پر نارتھ ساو¿تھ ٹرانسپورٹ کوریڈور میں پاکستان کی شمولیت پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کی 5 رکنی یورو ایشین اکنامک یونین میں شمولیت پر بھی اہم بات چیت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: عابد شیر علی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب
یورو ایشین اکنامک یونین
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ یورو ایشین اکنامک یونین میں روسی فیڈریشن، بیلارس، آرمینیا، قزاقستان اور کرغزستان شامل ہیں۔ بین الاقوامی برکس فورم میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میرے بلاوے سے زیادہ شاید اسے موت کا بلاوا تھا، وقت جب پورا ہو جائے تو نہ کسی کی آواز سنائی دیتی ہے نہ کسی کے کہنے پر کوئی رکتا ہے
پاکستان کی برکس فورم میں شمولیت
ذرائع کا کہنا ہے کہ روس نے برکس فورم میں پاکستان کی شمولیت میں مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت، صنعت، توانائی، باہمی منسلکی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت باہمی تعاون و تعلقات کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی حدود میں ایک انچ بھی داخل نہ ہونے دو” ایئر چیف کے احکامات اور کشیدگی کا فیصلہ کن مرحلہ کون سا تھا؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔
روس کا وفد
سفارتی ذرائع کے مطابق 15 اکتوبر کو شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان حکومت اجلاس میں شرکت کرنے والا سب سے بڑا وفد روسی فیڈریشن کا تھا، جس میں وزیراعظم میخائل ولادیمیرووچ مشہوسٹن، ڈپٹی وزیراعظم الیکسی اوورچک سمیت متعدد وزرا شامل تھے۔
روس کی خواہشات
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں مزید توسیع کا خواہشمند ہے۔








