تین منٹ سے زیادہ گلے لگانے پر پابندی عائد ،حکمنامہ جاری
ڈیونیڈن ایئرپورٹ کی نئی ہدایات
ڈیونیڈن (ڈیلی پاکستان آن لائن) - جب بھی لوگ ریلوے سٹیشنز اور ایئرپورٹس پر اپنے پیاروں کو رخصت کرتے ہیں تو ایک جذباتی ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں جس سے جذباتی لمحات طویل ہو جاتے ہیں۔ اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے اب تین منٹ کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔ اب مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ کار پارکنگ میں ایک دوسرے کو گلے ملیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں 7دسمبر تک توسیع
حفاظتی اقدامات
نیوزی لینڈ کے شہر ڈیونیڈن کے ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ مسافروں کے الوداع کے لمحات کو زیادہ محدود کیا جائے تاکہ روانگی کے علاقے میں تاخیر نہ ہو۔ بورڈز لگائے گئے ہیں جن پر واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کو تین منٹ سے زیادہ گلے نہ لگائے، اور یہ بہتر ہے کہ جذباتی لمحات کار پارکنگ میں گزارے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور اسد قیصر کے بھائی کی ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری
کمیونٹی کا ردعمل
ڈیونیڈن ایئرپورٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جذبات کو محسوس کرنے کے بجائے، لوگوں کو اپنے پرواز کے وقت کی اہمیت سمجھنی چاہیے۔ اس حکم کے اجرا پر سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں، کچھ لوگوں نے اس فیصلے کی حمایت کی جبکہ دیگر نے تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیں: حلقہ پی پی 139 شیخوپورہ میں ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز
ایئرپورٹ کا نقطہ نظر
ڈیونیڈن ایئرپورٹ کے سی ای او ڈینیل ڈی بونو نے نیوزی لینڈ کے آر این زیڈ ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹس کے ڈپارچر لاؤنج اور ریلوے پلیٹ فارم جذبات کے اظہار کے مقامات ہیں۔ عام طور پر بیس سیکنڈ تک گلے ملنا بھی کافی ہوتا ہے۔
پارکنگ کی تفصیلات
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ “بیماری” تیزی سے پھیلتی ہے یعنی ایک شخص گلے ملتا ہے، تو دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ مزید یہ کہ ڈیونیڈن ایئرپورٹ کے سی ای او نے یہ بھی بتایا کہ پارکنگ ایریا میں پندرہ منٹ کا وزٹ مفت ہے، جہاں اسٹاف کو روز نئے اور حیران کن مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔








