دوران آپریشن خاتون کے پیٹ میں رہ جانے والی قینچی 12سال بعد نکال لی گئی
سکم: خاتون کی حیران کن حالت
گنگٹوک(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی ریاست سکم میں ایک خاتون نے مسلسل رہنے والی تکلیف سے نجات کے لیے اپینڈکس کا آپریشن کروایا، لیکن وہ ایک اور نہ ختم ہونے والی تکلیف کا شکار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: محفوظ جیل منصوبہ ، پنجاب کی 43 جیلوں میں 9ہزار سے زائدجدید کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ
ایک دہائی کی تکلیف
انڈین میڈیا کے مطابق خاتون ایک دہائی سے زائد عرصے تک اس تکلیف میں مبتلا رہی اور کئی ڈاکٹر اس کی وجہ معلوم کرنے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی 167 ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ پالیسی کے تحت آتا ہے، پی ٹی آئی نہ حصہ لے رہی اور نہ ہی کسی امیدوار کی حمایت کر رہی ہے، اعلامیہ جاری
سرجیکل قینچی کا انکشاف
تاہم جب رواں ماہ کے شروع میں جب انکشاف ہوا تو اس نے انہیں اور ان کے خاندان کو حیران کر دیا، 45 سالہ خاتون کے پیٹ میں سرجیکل قینچی پائی گئی جو 2012 میں اپینڈکس کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں نے چھوڑ دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دفتری معاملات میں لکیر کھینچی جسکے اوپر کی غلطیوں کی معافی نہیں، پیسے کا لالچ نہیں نہ غلط کام کی ضرورت، دنیا کی سب سے بہترین موٹر پر دفتر آیا ہوں
درد کا سفر
خاتون کے شوہر نے بتایا کہ ان کا 2012 میں گنگٹوک کے سر تھوٹوب نمگیال میموریل ہسپتال میں آپریشن ہوا تھا اور اس کے بعد ان کے پیٹ میں مسلسل درد رہتا تھا۔ بہت سے ڈاکٹروں کو دکھایا جنہوں نے انہیں دوا دی، لیکن درد ختم نہیں ہوتا تھا۔ 8 اکتوبر کو وہ دوبارہ اسی ہسپتال گئیں اور ایکسرے سے پتہ چلا کہ ان کے پیٹ میں قینچی ہے۔
فوری سرجری اور موجودہ حالت
طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے قینچی کو نکالنے کے لیے فوری طور پر سرجری کی اور کہا جاتا ہے کہ خاتون کی حالت مستحکم ہے اور وہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی تو اس نے لوگوں میں غم و غصے کو جنم دیا اور ریاست میں ہسپتال اور طبی حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا۔








