تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
```html
تحریک انصاف کا بائیکاٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف نے مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر گاہ کیلیے ایران سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر دی
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی نے 'نہایت غیرشفاف اور متنازع ترین انداز میں دستور میں ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ' کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بیٹیاں ہر میدان میں سبز ہلالی پرچم کو سربلند کر رہی ہیں : وزیراعلیٰ مریم نواز کا قومی ٹیم کو ایشیئن یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ جیتنے پر خراج تحسین
بائیکاٹ کے اعلان کا اثر
اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں میں آئینی ترمیم پر رائے شماری کے عمل کا مکمل بائیکٹ کرے گی۔ پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اراکین پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہ ڈالیں، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر کے رائے شماری میں حصہ لینے والے اراکینِ قومی اسمبلی اور سینٹ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سی ای ایس 2026 امتحانات کا شیڈول، فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان نے غلط رپورٹنگ پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کردی
پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ٹکٹس پر سینٹ اور قومی اسمبلی کا حصہ بننے والے اراکین پارٹی پالیسی اور عمران خان کی ہدایت پر عمل کے پابند ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکن پارٹی پالیسی سے روگردانی کرتے ہوئے سینٹ یا قومی اسمبلی میں کسی بھی انداز میں رائے شماری میں حصہ لینے والے اراکین کی رہائشگاہوں کے باہر پرامن دھرنے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کارکنان کے پش اپس ڈی چوک میں، دفعہ 804 نافذ کر دی، عامر مغل
معاشرتی مسائل اور جمہوریت
"ایکسپریس نیوز" کے مطابق سیاسی کمیٹی نے کہا کہ انتخاب پر کھلا ڈاکہ ڈالنے اور عوام کا مینڈیٹ ہتھیا کر ایوانوں پر قابض ہونے والے گروہ کے پاس آئین کو بدلنے کا کوئی اخلاقی، جمہوری اور آئینی جواز نہیں ہے۔
اسٹریٹیجی اور عوامی حمایت
سیاسی کمیٹی نے کہا کہ بدترین ظلم، فسطائیت اور ترغیب و لالچ کا مقابلہ کرکے عمران خان کے ساتھ وفا نبھانے اور آئینی ترامیم پر پارٹی پالیسی کا پابند رہنے والے اراکینِ پارلیمان عوام کے دل جیتیں گے۔
```








