تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا
```html
تحریک انصاف کا بائیکاٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف نے مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کا حصہ نہ بننے اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک کی درخواست 20ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی نے 'نہایت غیرشفاف اور متنازع ترین انداز میں دستور میں ترمیم کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ' کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جو جماعتیں قومی اور عوامی مفاد پر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کو تیار نہیں وہ ذاتی مفاد پر اکٹھی ہوگئی ہیں، سلمان غنی
بائیکاٹ کے اعلان کا اثر
اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں میں آئینی ترمیم پر رائے شماری کے عمل کا مکمل بائیکٹ کرے گی۔ پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اراکین پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہ ڈالیں، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کر کے رائے شماری میں حصہ لینے والے اراکینِ قومی اسمبلی اور سینٹ کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت تحریک انصاف کا حصہ نہیں ہیں : سلمان اکرم راجہ
پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ٹکٹس پر سینٹ اور قومی اسمبلی کا حصہ بننے والے اراکین پارٹی پالیسی اور عمران خان کی ہدایت پر عمل کے پابند ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکن پارٹی پالیسی سے روگردانی کرتے ہوئے سینٹ یا قومی اسمبلی میں کسی بھی انداز میں رائے شماری میں حصہ لینے والے اراکین کی رہائشگاہوں کے باہر پرامن دھرنے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے ڈی ایس این جی اینڈ اوبی وین پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، اوبی وین کا معائنہ بھی کیا
معاشرتی مسائل اور جمہوریت
"ایکسپریس نیوز" کے مطابق سیاسی کمیٹی نے کہا کہ انتخاب پر کھلا ڈاکہ ڈالنے اور عوام کا مینڈیٹ ہتھیا کر ایوانوں پر قابض ہونے والے گروہ کے پاس آئین کو بدلنے کا کوئی اخلاقی، جمہوری اور آئینی جواز نہیں ہے۔
اسٹریٹیجی اور عوامی حمایت
سیاسی کمیٹی نے کہا کہ بدترین ظلم، فسطائیت اور ترغیب و لالچ کا مقابلہ کرکے عمران خان کے ساتھ وفا نبھانے اور آئینی ترامیم پر پارٹی پالیسی کا پابند رہنے والے اراکینِ پارلیمان عوام کے دل جیتیں گے۔
```








