اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کے حل کے لیے خصوصی عدالت کا بل ایوانِ بالا سے منظور ہو گیا

دبئی میں تاریخی قانون سازی
دبئی (طاہر منیر طاہر) ایوانِ بالا نے اسٹیبلشمنٹ آف سپیشل کورٹ (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی) ایکٹ 2024 منظور کر لیا ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی قانون سازی ہے۔ یہ بل وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے پیش کیا جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیداد کے تنازعات کے فوری اور موثر حل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگرد حملے کا ردعمل:ترکیہ کی عراق اور شام میں کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری
خصوصی عدالت کا قیام
اس بل کے تحت خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی جدید آلات بشمول ای فائلنگ کے ذریعے درخواستیں دائر کر سکیں گے۔ خصوصی عدالت پاکستان کے ہائی کمیشن کی نگرانی میں ویڈیو لنکس یا دیگر قانونی طور پر قابل قبول طریقوں کے ذریعے ثبوت پیش کرنے کی اجازت دے گی۔ خصوصی عدالت میں دائر مقدمات کا 90 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا جس سے بر وقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
مفادات کا تحفظ
بر وقت انصاف کی فراہمی کے ذریعے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہو پائے گا۔ یہ عدالت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مفادات کے تحفظ اور جائیداد کے تنازعات کو موثر طریقے سے حل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔