وفاقی کابینہ سے منظور آئینی ترامیم کے عدلیہ سے متعلق نکات سامنے آگئے
وفاقی کابینہ کی آئینی ترامیم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی کابینہ سے منظور آئینی ترامیم کے مسودے کے نکات سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ 12 دن کی جنگ: ایران میں شہادتوں کی تعداد کتنی ہو گئی؟ جانیے
جوڈیشل کمیشن کی ذمہ داریاں
منظور شدہ مسودے کے مطابق، جوڈیشل کمیشن آئینی بینچز اور ججز کی تعداد کا تعین کرے گا۔ آئینی بینچز میں تمام صوبوں سے مساوی ججز تعینات کئے جائیں گے اور آرٹیکل 184 کے تحت ازخود نوٹس کا اختیار آئینی بینچز کے پاس ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شوٹنگ کے قومی کوچ کو 17 سالہ شوٹر کے ساتھ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا
آئین کی تشریح کے حوالے سے درخواستیں
مسودے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 185 کے تحت آئین کی تشریح سے متعلق کیسز آئینی بینچز کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ بھر میں روایتی جوش و جذبے کے ساتھ کلچر ڈے منایا جا رہا ہے
چیف جسٹس کا تقرر
چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا، اور پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے پر جادو ٹونے کا الزام، گینگ لیڈر کے ہاتھوں بزرگوں کا قتلِ عام، 184 افراد ہلاک
چیف جسٹس کی مدت اور عمر کی بالائی حد
مسودہ کے متن کے مطابق، کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے۔ کسی جج کے انکار کی صورت میں اگلے سینئر ترین جج کا نام زیر غور لایا جائے گا۔ چیف جسٹس کے تقرر کے لئے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنے گی جس میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔ پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی اور 4 ارکان سینیٹ سے ہوں گے۔ چیف جسٹس کی مدت 3 سال ہوگی اور عمر کی بالائی حد 65 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے اختیارات
مسودے کے مطابق، آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ اپنے طورپر کوئی ہدایت یا ڈکلیرشن نہیں دے سکتی۔ آرٹیکل 186 اے کے تحت سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے کسی بھی کیس کو کسی دوسری ہائیکورٹ یا اپنے پاس منتقل کرسکتی ہے۔ ججز تقرری کمیشن ہائیکورٹ کے ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لے گا۔








