جس طرح پاکستان میں ملکہ ترنم نور جہاں کا بڑا نام ہے ٹھیک اسی طرح مصر میں اُم کلثوم کو یہ رتبہ حاصل تھا،انکی آواز کے مصری دیوانے تھے۔

مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 36
بڑی دیر تک آوارہ گردی کے بعد میں ایک بار پھر دریائے نیل کے ساحل پر ایک پارک میں بچھے ہوئے بنچ پر جا بیٹھا اور بہتے پانی کی روانی اور گنگناہٹ سے محظوظ ہونے لگا۔ میری نظر میں کشتیوں پر جگنوؤں کی طرح جھلملاتی رنگ برنگی روشنیوں پر تھیں جو اِدھر سے اُدھر مسلسل حرکت میں تھیں۔ اسی دوران کبھی کبھار بڑے بجرے آہستہ آہستہ تیرتے ہوئے آگے نکل جاتے، ان پر شب بیداری کی محفلیں جم چکی تھیں اور وہاں سے اٹھتی ہوئی موسیقی کی آوازیں اب دور تک فضاؤں میں گونج رہی تھیں۔
اُم کلثوم کا مقام
جس طرح پاکستان میں ملکہ ترنم نور جہاں کا ایک بڑا نام ہے اور اُن کو اُن کی سریلی آواز کی بدولت ہر جگہ عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، ٹھیک اسی طرح وہاں اُم کلثوم کو بھی یہ رتبہ حاصل تھا۔ اس کی خوبصورت اور درد بھری آواز کے تو مصری دیوانے تھے۔ ان کے کنسرٹ کے ٹکٹ حاصل کرنا کوئی ایسا آسان کام نہ تھا۔ عربی زبان کی دل نشیں شاعری کو جس وقت وہ اپنی دلکش آواز سے ہلکی موسیقی میں گنگناتی تھی تو وہ ایک ایسا شاہکار بن جاتا تھا کہ مدتوں بھلائے نہ بھولتا تھا۔ ہرچائے خانے میں ایک تسلسل کے ساتھ اس کے نغمے بجتے اور ایک سماں باندھ دیتے تھے۔
شکوہ جواب شکوہ
مجھے میرے مصری دوستوں نے بتایا تھا کہ اُم کلثوم نے علامہ اقبال کی مشہور زمانہ نظم”شکوہ جواب شکوہ“ کو بھی بڑی محبت اور مہارت سے گایا تھا۔ اس کا اردو سے عربی زبان میں بہت ہی خوبصورت اور بامعنی ترجمہ جامعہ ازہر کے پروفیسر عبدالوہاب عظام نے کیا تھا اور اس کا عنوان انہوں نے ”حدیث الروح“ تجویز کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے علامہ اقبال کی دو اور مشہور کتابوں ”ضربِ کلیم“ اور ”پیام مشرق“ کا بڑا ہی شاندار ترجمہ کیا تھا۔ وہ علامہ اقبال اور ان کے کلام کے بہت شیدائی تھے اور اس پر بڑا کام کیا تھا۔
محفل کا جادو
جب اُم کلثوم اپنی سحر انگیز شخصیت اور دلنشیں آواز کے ساتھ، ہاتھ میں رومال لئے اپنی جادوئی آواز میں ”حدیث الروح“ تجربہ کار مصری موسیقاروں کے بڑے جھرمٹ میں گاتی تھیں تو ہر طرف ایک سناٹا چھا جاتا تھا اور ایک سماں بندھ جاتا تھا۔ ان سے بار بار کسی بند کو سنانے کی فرمائش ہوتی تھی۔ اکثر لوگ تو آبدید ہ ہو جاتے تھے۔ جن کو بہت زیادہ ہی دل پر لگ جاتی اور اقبال کا پیغام ان کو اچھی طرح سمجھ میں آجاتا تو وہ سب کے سامنے چیخ چیخ کر رونے سے بھی نہیں شرماتے تھے۔
مصر کی جغرافیائی حیثیت
بہترین موقع ہے کہ میں مصر کے عمومی محل وقوع پر کچھ بات کر لوں تاکہ آگے چل کر حالات و واقعات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مصر جغرافیائی حوالے سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ایک حصہ بالائی مصر ہے جو دریائے نیل کے اس حصے کے آس پاس واقع ہے جہاں سے یہ سوڈان میں سے ہوتا ہوا مصر میں داخل ہوتا ہے۔ اس میں الأقصر سے اوپر کا علاقہ شامل ہے جس میں اسوان، ابو سمبل وغیرہ بھی آجاتے ہیں۔ الأقصر دریائے نیل کے مشرقی سمت بسایا گیا قدرے جدید شہر ہے جب کہ اسی علاقے میں فرعونوں کا اپنے زمانے کا بہت بڑا شہر اور دارالخلافہ”تھبیس“ Thebes تھا۔ یہ تقریباً مصر کا وسطی علاقہ بن جاتا ہے۔
دریائے نیل کے دونوں اطراف زیادہ تر صحرائی علاقہ چلتا ہے، البتہ ہریالی صرف اسی جگہ نظر آتی ہے جہاں تک دریائے نیل کا پانی زراعت کے لئے پہنچتا ہے۔ یہ کوئی تیس چالیس کلومیٹر کی پٹی ہے۔ اس سارے علاقے کو اگر جہاز سے دیکھا جائے تو بھورے صحرا میں اس سر سبز سی پٹی کے عین وسط سے دریائے نیل ایک سانپ کی طرح بل کھاتا گزرتا ہوا نظر آتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔