سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی 26ویں آئینی ترمیم منظور
قومی اسمبلی کی 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: جادوئی سمارٹ فون جو آپ کے اشاروں پر کام کرتا ہے
منظوری کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی 26 آئینی ترمیم کی منظوری دیدی، حکومت دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ابتدائی 2 شقوں کی شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن کے 12 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا، تاہم بعد میں اپوزیشن ارکان بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے متحد ہو: وزیر خارجہ
ووٹنگ کی تفصیلات
ایوان میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت کو 224 ووٹ درکار تھے، تاہم ترمیم پر شق وار منظوری کے دوران 225 ارکان نے ترمیم کے حق میں ووٹ کیا۔ آئینی ترمیم کے حق میں 6 منحرف اراکین نے بھی ووٹ دیا، جن میں 5 کا تعلق پی ٹی آئی جبکہ ایک کا تعلق (ق) لیگ سے بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلسل 2 فتوحات پاکستان میں سیلاب متاثرین کے نام کرتے ہیں: مائیک ہیسن
سپیکر کا اعلان
سپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ 225 اراکین نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا اور آئینی ترمیم کی مخالفت میں 12 ووٹ دیئے گئے۔ ایوان نے دو تہائی اکثریت سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامی ڈھانچہ بہت کمزور بلکہ کھوکھلا کر دیا گیا تھا، مسائل بہت تھے، ”تھوڑے وقت میں کام بہت کرنا تھا“ ان چیلنجز کیلیے تگڑی ٹیم کی تشکیل بھی ضروری تھی۔
تحریک پیش کرنے کی کارروائی
26 ویں آئینی ترمیم کیلئے قومی اسمبلی میں شق وار منظوری کیلئے ووٹنگ کروائی گئی۔ سینیٹ کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے شق وار منظوری کیلئے آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
اجلاس کی کارروائی
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پر ارکان نے کھڑے ہوکر ووٹ کیا، ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 225 ارکان نے ووٹ دیئے جبکہ 12 ارکان اسمبلی نے ترمیم پیش کرنے کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جیل کاٹنے کے اگر 10 نمبر ہوں تو میں عمران خان کو 10 میں سے 10 نمبرز دوں گا: رانا ثناء اللہ
اجلاس کی معطلی
سپیکر ایازصادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا اور نوید قمر نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔ تحریک منظور ہونے کے بعد 20 اور 21 اکتوبر کو معمول کی کارروائی معطل کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین حجاج کے لئے محرم کی شرط ختم
حکومتی بینچز کی تعداد
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کیلئے حکومتی اتحاد کو 224 ووٹ درکار تھے۔ حکومتی بینچز پر مسلم لیگ (ن) 111، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ہیں، اور حکومت کو آئینی ترمیم پاس کروانے کیلئے مزید 5 ارکان کی ضرورت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش الیکشن: خالدہ ضیاء اور بیٹے طارق رحمان نے 5 نشستوں پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیئے
آزاد اراکین کی شمولیت
قومی اسمبلی میں جاری اجلاس کے دوران چوہدری الیاس، عثمان علی، مبارک زیب، ظہور قریشی اور اورنگزیب کھچی سمیت 5 آزاد اراکین ایوان میں پہنچ گئے تھے۔ پانچوں ارکان پی ٹی آئی کی حمایت سے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ: وزیراعظم نے پارلیمنٹ تحلیل کر دی
سینیٹ کی منظوری
اس سے قبل ملکی ایوان بالا (سینیٹ) نے دوتہائی اکثریت سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور کی۔ سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں ترمیم پیش کی۔
سینیٹ میں ووٹنگ کی تفصیلات
سینیٹ اجلاس میں پہلی شق کے حق میں 65 ارکان اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے، اس طرح سینیٹ میں حکومت کا نمبر 58 سے بڑھ کر 65 ہوگیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم منظور کر لیں۔








