ایس سی او اجلاس: کیا پاکستان نے ‘سفارتی تنہائی’ کا تاثر ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 15 اور 16 اکتوبر 2024 کو شنگھائی تعاون کا دو روزہ اجلاس انتہائی سخت سکیورٹی میں منعقد ہوا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے 23ویں اجلاس کی میزبانی پاکستان نے کی، جبکہ آئندہ برس اس کا میزبان روس ہو گا۔
اس اجلاس کو پاکستان میں خاصی اہمیت دی گئی، جہاں ایک طرف سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے اور دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ کی کوشش تھی کہ تمام رکن ممالک سے حکومتی سربراہان یا سینیئر ترین وزرا اس میں شرکت کریں۔
اجلاس میں روس، ایران، انڈیا، اور وسطی ایشیائی ممالک کے وزرا، سربراہان اور وزرائے اعظم نے شرکت کی۔
چین کے وزیراعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی اور اس سے قبل ان کی پاکستان کی اعلی ترین قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کو نہ صرف رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا بلکہ دنیا کو یہ پیغام دینے کا بھی موقع ملا کہ پاکستان اب بھی بین الاقوامی سفارتی محاذ پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ایس سی او کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہماری کوشش تھی کہ ایس سی او کا ماحول مثبت ہو اور یہ بھی کہ تمام ممالک اتفاق رائے کے ساتھ نئی راہیں تلاش کریں۔ اسی وجہ سے ہم نے سب رکن ممالک کے ساتھ مل کر اعلامیے پر کام کیا۔ ہماری توجہ کا مرکز ترقی پذیر ممالک کے مسائل، رابطہ کاری اور تجارت تھے جبکہ گلوبل تجارت اور عالمی چیلنجز پر بات بھی کی گئی۔'
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے رکن ممالک کو عالمی سطح پر تجارت، رابطہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے افغانستان کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ افغانستان علاقائی ترقی کے لیے ایک اہم ملک ہے لیکن وہاں دہشتگردی کے خطرات کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔
انڈین وزیر خارجہ کی شرکت: کیا دونوں ملکوں کے بیچ برف پگھل سکتی ہے؟
انڈین وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی شرکت کو بھی اس اجلاس کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ایک دہائی میں کسی اعلیٰ انڈین عہدیدار کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات پر نئی بحث کو جنم دیا۔
اجلاس سے قبل انڈین وزیر خارجہ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان صرف ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں اور اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی بحالی نہیں۔
اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں بھارتی وزیر خارجہ نے براہ راست پاکستان پر دراندازی اور دہشتگردی کا الزام تو نہیں لگایا تاہم ڈھکے چھپے الفاظ میں اس جانب اشارہ ضرور کیا۔
انھوں نے کہا کہ اجلاس میں رکن ممالک ایک مشکل وقت میں مل رہے ہیں جب دنیا میں دو بڑے تنازعات جاری ہیں۔
جے شنکر نے کہا کہ 'ایس سی او کے چارٹر میں چیلنجز واضح ہیں اور وہ تین ہیں: دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی روک تھام۔'
ان کے مطابق ایس سی او کا مقصد باہمی اعتماد، دوستی اور اچھی ہمسائیگی کو مضبوط بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'اگر اعتماد کی کمی ہے یا تعاون ناکافی ہے، اگر دوستی میں کمی ہے اور اچھی ہمسائیگی کہیں ناپید ہو چکی ہے تو یقیناً خود احتسابی کی ضرورت ہے۔'
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر دوسرے ممالک سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تو ایسے ماحول میں تجارت، توانائی اور باہمی رابطے کا فروغ ناممکن ہے۔
جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ رکن ممالک کے بیچ تعاون، باہمی احترام اور خود مختاری کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔
'ہمیں ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے، یہ تعاون حقیقی شراکت داری پر مبنی ہو نہ کہ یکطرفہ ایجنڈوں پر۔'
خیال رہے کہ بھارت نہ صرف پاکستان پر سرحد پار سے دہشتگردی کا الزام لگاتا ہے بلکہ ان کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر سخت موقف اپنایا گیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا۔
اس کے برعکس پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
تجزیہ کار عامر ضیا کہتے ہیں کہ 'بھارتی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ وہ صرف ایس سی او کے اجلاس کے لیے آئے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت فی الوقت پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے امکانات کو ختم کر دیا۔'
سینیئر تجزیہ کار زاہد حسین نے بھارت پاکستان کے ایس سی او میں بیانات سے متعلق کہا کہ 'میرے خیال میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ اور الزام تراشی نہ ہونا ایک مثبت پیشرفت تھی اور اس پر پہلے سے ہی اتفاق ہو گیا تھا۔ یہ دونوں ملکوں کے لیے مستقبل میں بات چیت کا راستہ کھول سکتا ہے۔'
عامر ضیا کے مطابق 'انڈین وزیر خارجہ کا استقبال، ان سے مصافحہ یا مسکراہٹوں کا تبادلہ بنیادی میزبانی کے فرائض ہیں، اور ان کا اس سے زیادہ کچھ اور مطلب نکالنے کی ضرورت نہیں۔'
واضح رہے کہ پاکستان میں مقامی میڈیا سمیت بعض انڈین نیوز چینلز نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات ہوئی۔
یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ملاقات میں کرکٹ ڈپلومیسی پر بات کی گئی جس کا تعلق پاکستان میں آئندہ برس ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں انڈیا کی شرکت سے ہے، تاہم Uses in Urdu سے بات کرتے ہوئے انڈیا کے سینیئر سفارت کاروں اور دفتر خارجہ کے حکام نے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی۔
دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ 'ایسی کوئی ملاقات نہیں کی گئی کیونکہ فی الحال دو طرفہ ملاقات کا نہ ہونا دونوں ملکوں کا پالیسی فیصلہ ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور کھانے کی میز پر بھی پاکستان کے وزیر خارجہ، انڈین وزیر خارجہ سمیت تمام مہمانوں کا انفرادی طور پر شکریہ ادا کرتے رہے۔'
یہ بھی پڑھیں: سلمان رشدی کی ‘سیٹانک ورسز’ پر عدالتی فیصلے کے بعد بھارت میں متنازعہ کتاب کی پابندی ختم ہوئی؟
اجلاس کے پہلے دن ایران کے نائب صدر کا دورہ منسوخ
اجلاس میں ایران نے اپنے نائب صدر کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا لیکن میٹنگ سے عین قبل ایران نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور وزیر تجارت کو بھیجا۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے، اس پر مختلف آرا سامنے آئیں۔
دفتر خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے Uses in Urdu سے بات کرتے ہوئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ 'ایران شاید توقع کر رہا تھا کہ ایس سی او کے اس اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر کوئی مضبوط موقف اختیار کیا جائے گا اور جب ایسا نہیں ہوا تو انہوں نے نائب صدر کی بجائے وزیر تجارت کو بھیجا۔'
دوسری جانب بعض ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ صرف ایران کی داخلی صورتحال تھی۔
تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق 'ایران کو اس وقت اسرائیلی حملے کا خطرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے اول نائب صدر کا وہیں موجود رہنا ناگزیر تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کی وجہ ایس سی او کی طرف سے کسی ٹھوس بیان کا نہ ہونا ہے۔'
ایس سی او اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ رکن ممالک کو عالمی سطح پر غیر امتیازی اور شفاف تجارتی نظام کے قیام کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں اور یکطرفہ تجارتی پابندیوں کی مخالفت کی گئی۔
اعلامیے میں 'ایک دنیا، ایک خاندان اور ایک مستقبل' کے فلسفے پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور رابطہ کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب میں ایک اور بہترین فیچر کے اضافے کا فیصلہ
اجلاس میں عالمی تنازعات پر کوئی پوزیشن لینے سے اجتناب کیا گیا
ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ممالک ایک ساتھ بیٹھے تھے، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا اپنی نوعیت کا پہلا مشترکہ سربراہی اجلاس بیلجیئم کے دارالحکومت میں ہو رہا تھا۔
اس اجلاس میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ اور اسرائیل کے فلسطین اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق رائے سے واضح پوزیشنز لی گئیں۔
تاہم ایس سی او اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کشمیر، فلسطین، لبنان، ایران، روس اور یوکرین کے درمیان جاری بڑے عالمی تنازعات کا ذکر نہیں تھا۔
اسی بارے میں بات کرتے ہوئے زاہد حسین کہتے ہیں کہ ’ایس سی او اور دیگر الائنسز میں فرق ہے۔ ایس سی او کا اصل مقصد رابطہ کاری اور تجارت کو بڑھانا ہے جبکہ سیاسی معاملات پر توجہ نہیں دی جاتی۔‘
’دوسری بات یہ کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان آپسی اختلافات کافی زیادہ ہیں۔ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے کسی عالمی معاملے پر ایک پوزیشن لینا ممکن نہیں تھا جو دوسری تنظیمیں لے سکتی ہیں اور لے رہی ہیں۔‘
زاہد حسین کے مطابق ’پاکستان نے اس اجلاس کے ذریعے سفارتی سطح پر کافی کچھ حاصل کیا۔ اگرچہ اجلاس میں کشمیر، فلسطین، یا دیگر عالمی تنازعات پر بات نہیں کی گئی لیکن اس کا انعقاد پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت نے اس اجلاس کی کامیاب میزبانی کی، اور اس سے پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثر گیا۔‘
پاکستان میں اس اجلاس کو سیاسی اور سفارتی لحاظ سے کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک داخلی سطح پر سیاسی اور سکیورٹی مسائل سے دوچار ہے۔
Uses in Urdu سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان نے بہت زیادہ حاصل تو نہیں کیا ’مگر میں یہ کہوں گا کہ یہ حکومت کے لیے فائدہ مند تھا کیونکہ اس کی پبلسٹی بہت اچھی تھی خاص طور پر موجودہ سیاسی صورتحال میں اور پاکستانی حکومت نے خاصی کامیابی کے ساتھ اس کا انعقاد کیا۔‘
سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب رہنے والی ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان میں ایس سی او اجلاس کا انعقاد ایک بڑی سفارتی ذمہ داری تھی۔
’یہ پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر مثبت میٹنگ تھی۔ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کا ایس سی او کے معاہدوں یا ایجنڈے پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہاں دو طرفہ تعلقات پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کا پاکستان آنا اعتماد سازی کی جانب قدم ہو سکتا ہے۔‘
تجزیہ کار عامر ضیا کہتے ہیں کہ ’سیاسی عدم استحکام اور بڑھتی دہشتگردی کے باوجود اس قسم کے اجلاس کا منعقد ہو جانا یقنناً پاکستان کے لیے ایک بڑی علامتی کامیابی ہے۔ درجن بھر حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں کی اسلام آباد آمد نے اس تاثر کو زائل کیا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔‘
ان کے مطابق ’روس اور چین جیسی دو بڑی طاقتوں اور وسطی اشیا کے کئی ممالک کے وزرائے اعظم کی ایس سی او اجلاس میں شرکت اور پاکستانی قیادت کے ساتھ دو طرفہ معاملات پر بات چیت دنیا کو یہ پیغام دیتی نظر آئی کہ پاکستان کی اس خطے اور بین الاقوامی محاذ پر ایسی حیثیت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
لیکن دیگر کئی تجزیہ کاروں کی طرح وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس اجلاس کے فوائد بھرپور طریقے سے صرف اُسی وقت حاصل کر پائے گا جب وہ اپنے ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنا سکے۔
’ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو ڈنڈے سے زیادہ سیاسی تدبر، آئین اور قانون کی بالادستی اور اتفاق رائے کی سیاست پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔‘
سابق سفیر شمشاد احمد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنے اندرونی مسائل حل کرنے ہوں گے، جن میں سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے مسائل شامل ہیں۔ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرنا ہو گا۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبے میں سست روی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگی نے پاکستان کے لیے سفارتی امکانات کو محدود کر دیا۔‘
’ایس سی او کا مرکز تجارت اور رابطہ کاری کا فروغ‘
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ رکن ممالک کو عالمی سطح پر باہمی تجارت اور تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ عالمی اقتصادی مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ماہر معاشیات تیمور احمد خان کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے اس اجلاس کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ وہ اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے ملک کے اندرونی حالات کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگر پاکستان اپنے اندرونی مسائل کو حل کر لیتا ہے تو وہ خطے میں اہم اقتصادی کردار ادا کر سکتا ہے۔‘
معیشت سے متعلق امور کے ماہر خاقان نجیب کے مطابق باہمی تجارت اور رابطہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔
’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم سب کو اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہے اور یہی ایس سی او کا چارٹر ہے۔ یہ بہت بڑا خطہ ہے، آپ دنیا کے چالیس فیصد حصے کی بات کر رہے ہیں۔ تجارت، ٹیکنالوجی اور انرجی کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ جو ممالک اس وقت اس تنظیم کا حصہ ہیں وہ آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں اور سپلائی کا ایک بہت بڑا موقع موجود ہے۔ اگلے پندرہ بیس سال اس خطے میں گروتھ کے سال ہیں۔‘
نجیب خاقان کے مطابق ’چین ایک ایسا ملک ہے جو اپنے انجن آف گروتھ کو ٹرانسفارم کرتا رہا۔ روس اور ایران اپنی ترقی کے لیے مائینز، منرلز اور انرجی پر انحصار کرتے ہیں جبکہ انڈیا بھی ایک اچھا ٹریڈ پارٹنر ہے۔‘
’دوسری طرف پاکستان ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جو ان ممالک میں رابطہ کاری کا اہم ذریعہ ہے۔ جیسے اگر روس کو بارہ مہینے راستہ چاہیے تو پاکستان کے ذریعے ہی راستہ نکال سکتا ہے لیکن پاکستان کو اس کے لیے پہلے خود اپنے ملک کے حالات بہتر کرنا ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ ایس سی او اجلاس سے قبل پاکستان کی چین کے وزیراعظم سے اہم ملاقاتیں ہوئیں جبکہ روسی سفارت خانے کے مطابق اجلاس کے بعد روس کے وزیراعظم سے بھی دو طرفہ تعلقات اور تعاون پر اہم ملاقات کی گئی۔
چین کے وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ کسی بھی چینی وزیراعظم کا گیارہ سال بعد پہلا دورہ تھا۔ انھوں نے اسلام آباد سے تقریباً دو ہزار میل کے فاصلے پر تعمیر کیے گئے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ورچوئل افتتاح بھی کیا۔
چین اور پاکستان کے درمیان کئی اہم معاہدے طے پائے، جن میں سی پیک کے تحت گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز بھی شامل تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان سمارٹ کلاس رومز کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی طے پایا، جس کا مقصد تعلیمی میدان میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
چینی وزیراعظم کے دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی کے تبادلے کا ایک معاہدہ بھی طے پایا، اقتصادی ماہرین کے مطابق اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف منصوبوں کے معاہدوں میں گوادر میں ترقیاتی منصوبے، غذائی تحفظ کے حوالے سے تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون شامل تھا۔