26 ویں آئینی ترمیم کا مقصد پارلیمان کو عدلیہ کا زیر نگیں ہونے سے بچانا ہے، خواجہ آصف

وزیر دفاع کا ایک اہم بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کا مقصد پارلیمان کو عدلیہ کا زیر نگیں ہونے سے بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تین ہفتے میں رنگت گورا کرنے کا دعویٰ اور 15 لاکھ روپے کا جرمانہ: ‘شارخ کے اشتہار نے مجھے یہ کریم خریدنے پر مجبور کردیا’
عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان تنازع
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بیان دیا کہ عدلیہ کا پارلیمان سے جھگڑا اس بات پر ہے کہ ایک گروپ کی عدلیہ پر اجارہ داری ختم نہ ہو۔ انہوں نے عدلیہ کو ایک سیاسی ادارہ قرار دیا اور کہا کہ اس کے عزائم بھی سیاسی ہیں، وہ تسلسل چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سٹارلنک اور 4.4 ارب ڈالر کی منشیات: مسک کے سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کے ذریعے سمگلنگ نے بھارتی پولیس کو پریشان کر دیا
آئینی ترمیم کی اہمیت
وزیردفاع نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کا مقصد پارلیمان کو عدلیہ کا زیر نگیں ہونے سے بچانا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی عزت بحال کی اور عزت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ترمیم کی منظوری
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے گزشتہ رات 26 ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا، جس کے بعد اب چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار پالیمنٹ کے پاس چلا گیا ہے۔