انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے 26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے دھچکا قرار دیدیا
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ کی تنقید
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ (آئی سی جے) نے 26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے لیے دھچکا قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں بیک لاگ مکمل ختم ہوگیا: ڈی جی پاسپورٹ
عدلیہ کی آزادی پر اثرات
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے بل کی منظوری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ آئی سی جے کے سیکریٹری جنرل سینٹیاگو کینٹن نے کہا کہ آئینی تبدیلیوں سے عدالتوں میں تعیناتیوں اور عدلیہ کے انتظامی معاملات پر سیاسی اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنکی پیرنی نے سعودی سرمایہ کاری کیخلاف بیان دیا ، سارے ٹبر کو لے کر شاہی مہمان خانے میں بیٹھی تھی تو سازش یاد نہ آئی؟ مریم اورنگزیب
ترمیم کے خطرات
ریاست کے دیگر اداروں کی طرف سے زیادتیوں کے خلاف عدلیہ کی آزادانہ اور مؤثر طور پر جانچ پڑتال اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی صلاحیت ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
عجلت میں قانون سازی
آئی سی جے نے اس عجلت پر بھی تنقید کی جس کے ساتھ یہ بل قانون بنایا گیا اور کہا کہ مسودے میں ترامیم کو خفیہ رکھا گیا اور ان ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے اور منظور کرنے سے پہلے ان پر عوامی سطح پر مشاورت نہیں کی گئی۔








