آئینی ترمیم سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت کا راستہ ہموار ہوا: بیرسٹر سیف
پشاور میں سیاسی مداخلت کی نشاندہی
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم سے عدلیہ میں سیاسی مداخلت کا راستہ ہموار ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم میں پارٹی پالیسی سے انحراف، پی ٹی آئی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا
غیر آئینی ترمیم کی مذمت
بیرسٹر سیف کا بیان: سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے بغیر غیر آئینی ترمیم پاس کی گئی۔ ایک بڑے صوبے کی نمائندگی کے بغیر ترمیم سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی اور سی سی پی او کو پلاٹس کی الاٹمنٹ، پنجاب پولیس کا موقٔف سامنے آگیا
آئینی معاملہ اور قانونی چارہ جوئی
انہوں نے کہا کہ اس آئینی معاملے کا حل متنازع ترمیم کے نتیجے میں بنائے گئے آئینی بینچز کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ نامکمل پارلیمان سے ترمیم کرنا ایک ایسا عجوبہ ہے جو کسی کو سمجھ نہیں آ رہا۔
کے پی حکومت اس کی پرزور مذمت کرتی ہے اور قانونی چارہ جوئی بھی کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم دونوں ہی میدان میں تھے اور جہاز سے فرلانگ بھر دور نکل آئے تھے، ایک ساتھ ہی ہمت ہاری تھی، اسکا سانس اکھڑ گیا تھا،حواس ساتھ چھوڑ گئے
دھمکی اور سیاسی مفادات
بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کو سیاسی حکومت تعینات کرے تو انصاف کا جنازہ نکلنا ناگزیر ہے۔ آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ میں فیصلے عوام کے بجائے سیاسی مفادات کی بنیاد پر ہوں گے، انصاف کو سیاسی ایجنڈے کے تابع کرنا آئین سے غداری ہے۔
لوٹوں کا حساب
صوبائی مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پارٹی پالیسی کے برعکس آئینی ترمیم میں ووٹ دینے والوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ عوام اور پارٹی دونوں ان لوٹوں کا حساب لیں گے اور ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنائیں گے۔








