قاسم رونجھو نے اپنی پریس کانفرنس پر یوٹرن لے لیا
اسلام آباد میں رونجھو کا موقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مستعفی سینیٹر محمد قاسم رونجھو کے بیٹے بیرسٹر جہانزیب رونجھو نے کہا ہے کہ میرے والد کو استعفے کے لیے زبردستی سینیٹ لایا گیا، میرے والد پہلے ہی استعفیٰ دے چکے تھے۔ طویل عرصے سے پارٹی کے لیے قربانیاں دینے والے کارکن کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی پارٹی قیادت سے توقع نہیں تھی۔ دوسری جانب قاسم رونجھو نے بھی اپنی پریس کانفرنس کی گئی باتوں سے یوٹرن لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: شاہراہ دستور پر گاڑی کی سکوٹی کو ٹکر، 2 خواتین جاں بحق
قاسم رونجھو کی پریس کانفرنس
منگل کو بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سینیٹر قاسم رونجھو نے اپنی مبینہ گمشدگی کے حوالے سے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ زور آور لوگوں نے 7 دن مہمان بنایا، اس دوران مچھروں کے کاٹنے سے مجھے ملیریا ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم پر صدر و اتحادی جماعتوں کا شکریہ، نواز شریف سے رہنمائی لی: وزیراعظم
استعفیٰ دینے کی وجوہات
پارٹی پالیسی کے خلاف 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے سینیٹر قاسم رونجھو نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ہال (سینیٹ) میں بے حس لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اپنی سمجھ سے باہر سمجھا تو میں نے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 9 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
مبینہ گمشدگی کی تفصیلات
جب میڈیا کے نمائندوں نے ان سے گزشتہ ہفتے اپنی مبینہ گمشدگی کی تفصیلات بتانے کا کہا تو قاسم رونجھو نے جواب دیا کہ تفصیلات تو کوئی خاص نہیں ہے، کچھ زور آور لوگ تھے جو بھی تھے، جہاں سے بھی آئے تھے، انہوں نے 6، 7 دن مجھے مہمان بنائے رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گلابی چاند دیکھنے کا شاندار موقع، کب اور کیسے دیکھا جا سکے گا؟ جانیے
طبی مسائل کا ذکر
بی این پی کے رہنما نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مچھروں کے کاٹنے سے، ایک تو میں پہلے ہی ڈائلیسز کا مریض ہوں۔ اس حالت میں مجھے دو مرتبہ ڈائلیسز بھی کرایا، لے گئے تھے ہسپتال، اس کے بعد مچھروں کے اندر ملیریا ہوگیا اور اس ملیریا کے اندر پھر لے گئے ہسپتال تو یہ تو سلسلے انہوں نے کیے، ان کا اخلاق تھا بہرحال جو بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ای چالانز کا ہدف 95کروڑسے بڑھا کر ایک ارب 47کروڑ روپے مقررکردیا
بھاگنے کا سوال
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے گھر چھوڑو، میں بھاگ تو نہیں جا رہا پاکستان سے، انہوں نے کہا کہ نہیں 4 دن مہمان ہو، 2، 4 دن ہمارا کھانا بھی کھاؤ، اس قسم کی باتیں رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی والڈ سٹی لاہور اتھارٹی کامران لاشاری عہدے سے مستعفی
موبائل کے بارے میں وضاحت
اپنے موبائل سے متعلق سوال پر قاسم رونجھو نے کہا کہ وہ تو انہوں نے شروع میں ہی لے لیے، جیب سے نکال لیے، پہلے آدھے گھنٹے نہیں، پہلے 15 منٹ میں ہی لے لیے۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی خواہش کی خبروں پر سینئر صحافی نصرت جاوید کھل کر بول پڑے، پھلجھڑی قرار دیدیا۔
جہانزیب رونجھو کا بیان
اس پریس کانفرنس کے بعد منگل کو ”ایکس“ پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں بی این پی کے مستعفی سینیٹر قاسم رونجھو کے بیٹے جہانزیب رونجھو نے لکھا کہ میرے والد محترم بی این پی کے بنیادی رہنما سابق سینیٹر محمد قاسم رونجھو کو پہلے ایک پالیسی کے تحت خبروں کی زینت بنایا گیا۔
انہوں نے لکھا کہ بعد ازاں 70 سال سے زیادہ عمر کے شخص جو پہلے سے ہی گردوں کے آخری مراحل کے مرض سے جنگ لڑرہا ہے، ان کو ہفتہ وار ڈائیلسز کروانے ہوتے ہیں، معاملہ جانے بغیر اپنی سیاست کی آڑ میں سینیٹ ووٹ کے بعد استعفیٰ کا کہا گیا، خیر یہ پارٹی پالیسی کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا لاہور کے مختلف ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا دورہ، ”روٹ 47“ صرف سڑک نہیں سمارٹ ترقی کی نئی داستان ہے: مریم نواز
بے بنیاد الزامات کی مذمت
جہانزیب رونجھو نے مزید لکھا کہ میرے والد نے استعفیٰ دینا مناسب سمجھا، لیکن بعد ازاں زبردستی ان کی سابقہ رواں اور ہر دور میں پارٹی کے لیے بے شمار قربانیوں کو نظر انداز کر کے پریس کانفرنس کروائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل پارٹی کی طرف سے غیراخلاقی اور غیرسنجیدہ ہے جسکی میں مذمت کرتا ہوں۔
زور زبردستی کی پریس کانفرنس
بیرسٹر جہانزیب رونجھو نے مزید کہا کہ ’پارٹی کو ہر فورم پر سپورٹ کرنے والے کو ایک عام فرد سمجھ کر کبھی استعفیٰ نہ دینے کا کہا جاتا ہے، کبھی دینے کے لیے پابند کیا جاتا ہے، پھر زبردستی پریس کانفرنس کروائی جاتی ہے۔
اس کے بعد قاسم رونجھو نے خود ایک ویڈیو بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج میری پارٹی کے سربراہ اور ایم این ایز نے زبردستی پریس کانفرنس کروائی، جو کہ مکمل جھوٹ اور فیبریکٹڈ تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ زبردستی کے الفاظ تھے جو آگے لکھے ہوئے تھے کہ مجھے گھر سے اٹھایا گیا یا کیا کیا، اور یہ سارے مچھر وغیرہ انہوں نے لکھ کر آگے رکھے ہوئے تھے۔'
انہوں نے مزید کہا، 'میں 15 دن سے گھر پر ہی موجود تھا، کوئی ایسی بات نہیں جو مجھ سے کروائی گئی ہے، میں اس کی تردید کرتا ہوں، بھرپور تردید کرتا ہوں۔'








