بانی پی ٹی آئی کا ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرانے کی درخواست پر جیل حکام کا جواب غیرتسلی بخش قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی کا ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرانے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام اور سٹیٹ کونسل کا جواب غیرتسلی بخش قرار دیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں کا رویہ قابل تعریف نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہواوے (Huawei) ٹیکنالوجی انٹیگریشن ایوارڈ میں ڈی ڈبلیو پی کی کارکردگی نے دھوم مچا دی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کا ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چودھری اور جیل حکام پیش ہوئے۔ سٹیٹ کونسل نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب کو غیرتسلی بخش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کی کال نے شوہر کو 84 کروڑ روپے کا مالک بنا دیا
جیل میں طبی سہولیات
سٹیٹ کونسل نے کہا کہ جیل میں طبی معائنہ کے لیے ڈاکٹرز موجود ہیں اور ہفتے میں تین روز معائنہ ہوتا ہے۔ تاہم، جیل میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر 25 اکتوبر تک پابندی ہے، جس کا اعلان محکمہ داخلہ پنجاب نے کیا ہے۔
عدالت کے ریمارکس
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہیں، جبکہ وکیل خالد یوسف چودھری نے یہ بھی کہا کہ جنگوں میں بھی ڈاکٹرز کو معائنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سٹیٹ کونسل سے کہا کہ ان کی درخواست پر غور کیا جائے، اور میں اس پر آرڈر جاری کروں گا۔