میو ہسپتال کے شعبہ امراض قلب کی ابتر صورتحال، مریضوں کی بد دعائیں، حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ
میو ہسپتال کی حالت زار
لاہور (جاوید اقبال سے) صوبائی دارالحکومت کے میو ہسپتال کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ نے ہسپتال کی کارکردگی کا "پوسٹ مارٹم" کر دیا ہے۔ ایشیاء کے سب سے بڑے مرکز صحت میوہسپتال کے مذکورہ شعبہ کے سربراہ نے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک مراسلہ بھجوا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادی مارچ کیس: زرتاج گل دونوں مقدمات سے بری
پیش کردہ مسائل
مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مریضوں کے دل کے آپریشن، اینجیوگرافی، پلاسٹی، اور ایمرجنسی پرائمری اینجیوگرافی کرنے کے لیے ہسپتال اور اس کا ڈائریکٹر فنانس نہ تو فنڈز فراہم کر رہا ہے اور نہ ہی سامان دے رہا ہے۔ اس کی وجہ سے مذکورہ شعبہ میں دل کے مریضوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا دن مشکل اور آسان گزرا، صبح آنا شام کو واپس چلے جانا، کوئی بات چیت نہیں، میری حالت ان چار پانچ دنوں میں اس محاورے جیسی تھی ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“۔
سپورٹنگ ڈسکیشن
ایسی صورت حال میں، سرجری اور دیگر دل کے پروسیجرز سامان کی عدم فراہمی کے باعث معطل کر دیئے گئے ہیں۔
مریضوں کی آوازیں
مریضوں کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال کے دل جیسے حساس ترین شعبے کی یہ حالت دیکھ کر یہ سوچنا پڑتا ہے کہ ہسپتال کے دیگر شعبوں میں مریضوں کو کس طرح کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہسپتال کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مریض مفت ادویات کی سہولیات نہ ملنے پر خواہشات اور شکایات کرتے ہوئے بد دعائیں دے رہے ہیں، اور حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔








